تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 391
۳۹۱ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام خاوند ہی رہتا ہے اور نکاح بھی بدستور نکاح ہی کہلاتا ہے اور جو شخص اس غیر عورت سے ہم بستر ہوتا ہے اس کا نکاح اس عورت سے نہیں ہوتا اور اگر یہ کہو کہ مسلمان بے وجہ بھی عورتوں کو طلاق دے دیتے ہیں تو تمہیں معلوم ہے کہ ایشر نے مسلمانوں کو لغو کام کرنے سے منع کیا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون: ۴) اور قرآن میں بے وجہ طلاق دینے والوں کو بہت ہی ڈرایا ہے۔ماسوا اس کے تم اس بات کو بھی تو ذرا سوچو کہ مسلمان اپنی حیثیت کے موافق بہت سا مال خرچ کر کے ایک عورت سے شادی کرتے ہیں اور ایک رقم کثیر عورت کے مہر کی ان کے ذمہ ہوتی ہے اور بعضوں کے مہر کئی ہزار اور بعض کے ایک لاکھ یا کئی لاکھ ہوتے ہیں اور یہ مہر عورت کا حق ہوتا ہے اور طلاق کے وقت بہر حال اس کا اختیار ہوتا ہے کہ وصول کرے اور نیز قرآن میں یہ حکم ہے کہ اگر عورت کو طلاق دی جائے تو جس قدر مال عورت کو طلاق سے پہلے دیا گیا ہے وہ عورت کا ہی رہے گا۔اور اگر عورت صاحب اولاد ہو تو بچوں کے تعہد کی مشکلات اس کے علاوہ ہیں۔اسی واسطے کوئی مسلمان جب تک اس کی جان پر ہی عورت کی وجہ سے کوئی وبال نہ پڑے تب تک طلاق کا نام نہیں لیتا۔بھلا کون ایسا پاگل ہے کہ بے وجہ اس قدر تباہی کا بوجھ اپنے سر پر ڈال لے بہر حال جب مرد اور عورت کے تعلقات نکاح با ہم باقی نہ رہے تو پھر نیوگ کو اس سے کیا نسبت جس میں عین نکاح کی حالت میں ایک شخص کی عورت دوسرے شخص سے ہم بستر ہو سکتی ہے پھر طلاق مسلمانوں سے کچھ خاص بھی نہیں بلکہ ہر یک قوم میں بشرطیکہ دیوث نہ ہوں نکاح کا معاہدہ صرف عورت کی نیک چلنی تک ہی محدود ہوتا ہے اور اگر عورت بد چلن ہو جائے تو ہر ایک قوم کے غیر تمند کو خواہ ہندو ہو خواہ عیسائی ہو بد چلن عورت سے علیحدہ ہونے کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔۔۔گندی عورت گندے عضو کی طرح ہے اور اس کا کاٹ کر پھینکنا اسی قانون کے رو سے ضروری پڑا ہوا ہے جس قانون کے رو سے ایسے عضو کاٹے جاتے ہیں اور چونکہ ایسی عورتوں کو اپنے پاس سے دفع کرنا واقعی طور پر ایک پسندیدہ بات اور انسانی غیرت کے مطابق ہے اس لئے کوئی مسلمان اس کارروائی کو چھپے چھپے ہرگز نہیں کرتا مگر نیوگ چھپ کر کیا جاتا ہے کیونکہ دل گواہی دیتا ہے کہ یہ برا کام ہے۔: آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۸ تا ۴۱) اگر کوئی عورت اذیت اور مصیبت کا باعث ہو تو ہم کو کیونکر یہ خیال کرنا چاہئے کہ خدا ہم سے ایسی عورت کے طلاق دینے سے ناخوش ہو گا۔میں دل کی سختی کو اس شخص سے منسوب کرتا ہوں جو اس عورت کو اپنے پاس رہنے دے، نہ اس شخص سے جو اس کو ایسی صورتوں میں اپنے گھر سے نکال دے۔ناموافقت سے عورت کو