تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 389

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۹ سورة البقرة غیرت اور حیا کا مادہ رکھا ہے اور وہ اس بات کو سمجھتے ہیں۔آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۶۵) اور چاہئے کہ جن عورتوں کو طلاق دی گئی وہ رجوع کی امید کے لئے تین حیض تک انتظار کریں۔آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۵۲) اس سوال کے جواب میں کہ کیا کوئی عورت نبیہ ہو سکتی ہے؟ فرمایا: نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الرجال قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء: ۳۵) اور الرّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَة - عورتیں اصل میں مردوں کی ہی ذیل ہوا کرتی ہیں۔جب صاحب درجہ اور صاحب مرتبہ کے واسطے ایک دروازہ بند کر دیا گیا تو یہ بیچاری ناقصات العقل کس حساب میں ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۰،۹) عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔مختصر الفاظ میں بیان فرما دیا ہے وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ کہ جیسے مردوں پر عورتوں کے حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں۔بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات اُن سے لیتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں، حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سے برتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کر دیتے ہیں۔چاہئے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو بچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں اگر انہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا سے صلح ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لاهله تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے اچھا ہے۔ص البد ر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۳۷) الطَّلَاقُ مَرَّتَنِ فَإِمْسَاكَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحُ بِإِحْسَانٍ ، وَ لَا يَحِلُّ لَكُم b اَنْ تَأخُذُوا مِمَّا اتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا اَلَا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ - فَإِنْ خِفْتُمُ اللَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حدُودُ اللهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ ان تین حیض میں ( جن کا ذکر اوپر کی آیت میں ہو چکا ہے ) جو قریباً تین مہینے ہیں دو دفعہ طلاق ہوگی یعنی