تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 383

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۳ ورة البقرة ہی اعمال کا نتیجہ ہوگا۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۳۶ تا ۳۳۸) اسی طرح بیعت میں عظیم الشان بات تو یہ ہے جس کے معنے رجوع کے ہیں۔تو یہ اس حالت کا نام ہے کہ انسان اپنے معاصی سے جس سے اس کے تعلقات بڑھے ہوئے ہیں اور اس نے اپنا وطن انہیں مقرر کر لیا ہوا ہے۔گویا کہ گناہ میں اس نے بود و باش مقرر کر لی ہوئی ہے تو تو بہ کے معنے یہ ہیں کہ اس وطن کو چھوڑنا اور رجوع کے معنے پاکیزگی کو اختیار کرنا۔اب وطن کو چھوڑ نا بڑا گراں گزرتا ہے اور ہزاروں تکلیفیں ہوتی ہیں۔ایک گھر جب انسان چھوڑتا ہے تو کس قدر اسے تکلیف ہوتی ہے اور وطن کو چھوڑنے میں تو اس کو سب یار دوست سے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے، اور سب چیزوں کو مثل چار پائی فرش و ہمسائے وگلیاں کو چے باز ارسب چھوڑ چھاڑ کر ایک نئے ملک میں جانا پڑتا ہے یعنی اس وطن میں کبھی نہیں آنا۔اس کا نام تو بہ ہے۔معصیت کے دوست اور ہوتے ہیں اور تقوی کے دوست اور اس تبدیلی کو صوفیا نے موت کہا ہے۔جو تو بہ کرتا ہے اُسے بڑا حرج اُٹھانا پڑتا ہے اور کچی تو بہ کے وقت بڑے بڑے حرج اُس کے سامنے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ رحیم کریم ہے وہ جب تک اُس کل کا نعم البدل عطا نہ فرما دے نہیں مارتا۔اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ میں یہی اشارہ ہے کہ وہ تو بہ کر کے غریب بیکس ہو جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اُسے محبت اور پیار کرتا ہے اور اُسے نیکیوں کی جماعت میں داخل کرتا ہے۔(البدر جلد نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ نومبر و ۵ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۳۶) یعنی جو باطنی اور ظاہری پاکیزگی کے طالب ہیں میں اُن کو دوست رکھتا ہوں۔ظاہری پاکیزگی باطنی طہارت کی محمد اور معاون ہے۔اگر انسان اس کو چھوڑ دے اور پاخانہ پھر کر بھی طہارت نہ کرے تو اندرونی پاکیزگی پاس بھی نہ پھٹکے۔پس یا درکھو کہ ظاہری پاکیزگی اندرونی طہارت کو مستلزم ہے۔اس لئے لازم ہے کہ کم از کم جمعہ کو نسل کرو، ہر نماز میں وضو کرو، جماعت کھڑی کرو تو خوشبو لگا لو، عیدین اور جمعہ میں خوشبو لگانے کا جو حکم ہے وہ اسی بنا پر قائم ہے اصل وجہ یہ ہے کہ اجتماع کے وقت عفونت کا اندیشہ ہے۔پس غسل کرنے اور صاف کپڑے پہنے اور خوشبو لگانے سے تمیت اور عفونت سے روک ہوگی۔جیسا اللہ تعالیٰ نے زندگی میں یہ مقرر کیا ہے ویسا ہی قانون مرنے کے بعد بھی رکھا ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور ان لوگوں سے جو پاکیزگی کے خواہاں ہیں پیار کرتا ہے اس آیت سے نہ صرف یہی پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں کو اپنا محبوب بنالیتا ہے بلکہ یہ (رسالہ انذار صفحہ ۸،۷ مطبوعہ ۱۹۳۶ء)