تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 382
۳۸۲ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہے کہ وہ بعض جسمانی بلاؤں سے بچا لیا جائے بجز اس صورت کے کہ وہ کثرتِ گناہوں کی وجہ سے سزا کے لائق ٹھہر گیا ہو۔کیونکہ اس صورت میں اس کے لئے یہ حالت بھی خدا تعالیٰ میسر نہیں کرے گا کہ وہ ظاہری پاکیزگی کو کما حقہ بجا لا کر اس کے نتائج سے فائدہ اُٹھا سکے۔غرض بموجب وعدہ الہی کے محبت کے لفظ میں سے ایک خفیف اور ادنی سے حصہ کا وارث وہ دشمن بھی اپنی دنیا کی زندگی میں ہو جاتا ہے جو ظاہری پاکیزگی کے لئے کوشش کرتا ہو۔جیسا کہ تجربہ کے رُو سے یہ مشاہدہ بھی ہوتا ہے کہ جولوگ اپنے گھروں کو خوب صاف رکھتے ہیں اور اپنی بدر روؤں کو گندہ نہیں ہونے دیتے اور اپنے کپڑوں کو دھوتے رہتے ہیں اور خلال کرتے اور مسواک کرتے اور بدن پاک رکھتے ہیں اور بدبو اور عفونت سے پر ہیز کرتے ہیں وہ اکثر خطرناک وبائی بیماریوں سے بچے رہتے ہیں پس گویا وہ اس طرح پر يُحِبُّ الْمُتَطَرِین کے وعدہ سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔لیکن جو لوگ طہارت ظاہری کی پروا نہیں رکھتے آخر کبھی نہ کبھی وہ بیچ میں پھنس جاتے ہیں اور خطرناک بیماریاں اُن کو آ پکڑتی ہیں۔اگر قرآن کو غور سے پڑھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ خدا تعالیٰ کے بے انتہا رحم نے یہی چاہا ہے کہ انسان باطنی پاکیزگی اختیار کر کے رُوحانی عذاب سے نجات پاوے اور ظاہری پاکیزگی اختیار کر کے دنیا کے جہنم سے بچار ہے جو طرح طرح کی بیماریوں اور وباؤں کی شکل میں نمودار ہو جاتا ہے اور اس سلسلہ کو قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک بیان فرمایا گیا ہے۔جیسا کہ مثلاً یہی آیت إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ صاف بتلا رہی ہے کہ توابین سے مراد وہ لوگ ہیں جو باطنی پاکیزگی کے لئے کوشش کرتے ہیں اور مُتَطَهِّرِينَ سے وہ لوگ مراد ہیں جو ظاہری اور جسمانی پاکیزگی کے لئے جد و جہد کرتے رہتے ہیں۔ایسا ہی ایک دوسری جگہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا (المؤمنون: ٥٢) یعنی پاک چیزیں کھاؤ اور پاک عمل کرو۔اس آیت میں حکم جسمانی صلاحیت کے انتظام کے لئے ہے جس کے لئے كُلُوا مِن الطیبت کا ارشاد ہے۔اور دوسرا حکم روحانی صلاحیت کے انتظام کے لئے ہے جس کے لئے وَاعْمَلُوا صَالِحًا کا ارشاد ہے اور ان دونوں کے مقابلہ سے ہمیں یہ دلیل ملتی ہے کہ بدکاروں کے لئے عالم آخرت کی سز ا ضروری ہے۔کیونکہ جب کہ ہم دنیا میں جسمانی پاکیزگی کے قواعد کو ترک کر کے فی الفور کسی بلا میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔اس لئے یہ امر بھی یقینی ہے کہ اگر ہم روحانی پاکیزگی کے اصول کو ترک کریں گے تو اسی طرح موت کے بعد بھی کوئی عذاب مؤلم ضرور ہم پر وارد ہوگا۔جو وباء کی طرح ہمارے