تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 384
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۴ سورة البقرة بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی تو بہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے۔ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہونا ضروری ہے ورنہ نری تو بہ اور لفظ کے تکرار سے تو کچھ فائدہ نہیں ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۱۷ رستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۱) یا درکھو کہ گناہ ایک زہر ہے اور ہلاکت ہے مگر تو بہ اور استغفار ایک تریاق ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے پیار کرتا ہے جو تو بہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاک ہو جاویں۔( بدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخه ۲۶ جولائی ۱۹۰۶ صفحه ۳) اللہ تعالی دُعا کرنے والے کو ضائع نہیں کرتا۔جب تضرع سے دُعا کرتا ہے اور معصیت میں مبتلا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ یہ شخص بچایا جاوے اور وہ بچایا جاتا ہے کیونکہ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحہ ۱۱،۱۰) حقیقی تو به انسان کو خدا تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور اس سے پاکیزگی اور طہارت کی توفیق ملتی ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ یعنی اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور نیز اُن لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گناہوں کی کشش سے پاک ہونے والے ہیں۔تو بہ حقیقت میں ایک ایسی شے ہے کہ جب وہ اپنے حقیقی لوازمات کے ساتھ کی جاوے تو اس کے ساتھ ہی انسان کے اندر ایک پاکیزگی کا بیج بویا جاتا ہے جو اُس کو نیکیوں کا وارث بنا دیتا ہے۔یہی باعث ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ گناہوں سے تو بہ کرنے والا ایسا ہوتا ہے کہ گویا اُس نے کوئی گناہ نہیں کیا یعنی تو بہ سے پہلے کے گناہ اس کے معاف ہو جاتے ہیں۔اُس وقت سے پہلے جو کچھ بھی اس کے حالات تھے اور جو بے جا حرکات اور بے اعتدالیاں اُس کے چال چلن میں پائی جاتی تھیں۔اللہ تعالی اپنے فضل سے اُن کو معاف کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک عہد صلح باندھا جاتا ہے اور نیا حساب شروع الحکم جلدے نمبر ۳۸ مورخه ۱۷/اکتوبر ۱۹۰۳ صفحه ۱) یہ سچی بات ہے کہ تو بہ اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ سچی توبہ کرنے والا معصوم کے رنگ میں ہوتا ہے۔پچھلے گناہ تو معاف ہو جاتے ہیں پھر آئندہ کے لئے خدا سے معاملہ صاف کر لے۔اس طرح پر خدا تعالیٰ کے اولیاء میں داخل ہو جائے گا اور پھر اُس پر کوئی خوف و حزن نہ ہوگا۔الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مار چ ۱۹۰۴ صفحه ۵) ہوتا ہے۔