تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 326
٣٢٦ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تجربہ سے کہتا ہوں خیالی بات نہیں جو مشکل کسی تدبیر سے حل نہ ہوتی ہو اللہ تعالیٰ دُعا کے ذریعہ اسے آسان کر دیتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ دُعا بڑی زبر دست اثر والی چیز ہے۔بیماری سے شفا اس کے ذریعہ ملتی ہے۔دنیا کی تنگیاں مشکلات اس سے دور ہوتی ہیں دشمنوں کے منصوبے سے یہ بچا لیتی ہے اور وہ کیا چیز ہے جو دُعا سے حاصل نہیں ہوتی ؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کو پاک یہ کرتی ہے اور خدا تعالیٰ پر زندہ ایمان یہ بخشتی ہے۔گناہ سے نجات دیتی ہے اور نیکیوں پر استقامت اس کے ذریعہ سے آتی ہے۔بڑا ہی خوش قسمت وہ شخص ہے جس کو دُعا پر ایمان ہے۔کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کو دیکھتا ہے اور خدا تعالی کو دیکھ کر ایمان لاتا ہے کہ وہ قادر کریم خدا ہے۔اللہ تعالیٰ نے شروع قرآن ہی میں دُعا سکھائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بڑی عظیم الشان اور ضروری چیز ہے اس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔۔۔۔خدا تعالیٰ کی تجلیات اور رحمتوں کے ظہور کے لئے دُعا کی بہت بڑی ضرورت ہے اس لئے اس پر ہمیشہ کمر بستہ رہو اور کبھی مت تھکو۔غرض اصلاح نفس کے لئے اور خاتمہ بالخیر ہونے کے لئے نیکیوں کی توفیق پانے کے واسطے دوسرا پہلو دُعا کا ہے۔اس میں جس قدر تو گل اور یقین اللہ تعالیٰ پر کرے گا اور اس راہ میں نہ تھکنے والا قدم رکھے گا۔اسی قدر عمدہ نتائج اور ثمرات ملیں گے تمام مشکلات دور ہو جائیں گی۔اور دُعا کرنے والا تقومی کے اعلیٰ محل پر پہونچ جاوے گا۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کسی کو پاک نہ کرے کوئی پاک نہیں ہو سکتا۔نفسانی جذبات پر محض خدا تعالی کے فضل اور جذ بہ ہی سے موت آتی ہے۔اور یہ فضل اور جذ بہ دُعا ہی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ طاقت صرف دُعا ہی جذبہ یہی سے ملتی ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ مسلمانوں اور خصوصاً ہماری جماعت کو ہرگز ہرگز دُعا کی بے قدری نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہی دُعا تو ہے جس پر مسلمانوں کو ناز کرنا چاہئے۔اور دوسرے مذاہب کے آگے تو دُعا کے لئے گندے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور وہ توجہ نہیں کر سکتے۔(الحکم جلد ۹ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۳،۲) دُعا ایسی شے ہے کہ جن امراض کو اطباء اور ڈاکٹر لا علاج کہہ دیتے ہیں ان کا علاج بھی دُعا کے ذریعہ سے ہو سکتا ہے۔البدرجلد نمبر ۳ مورخه ۱/۲۰ پریل ۱۹۰۵ صفحه ۲) اصل حقیقت دُعا کی وہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔یہی دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔اور انسان کو نا معقول باتوں سے ہٹاتی ہے۔اصل