تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 325
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۵ سورة البقرة اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن (1) تم مجھ سے دُعا کرو میں تمہارے لئے قبول کروں گا۔دُعا ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کو دوسری قوموں پر فخر کرنا چاہئے دوسرے مذاہب کو دُعا کی حقیقت کی کچھ بھی خبر نہیں اسی واسطے ان کو دُعا کی کوئی قدر نہیں۔بلکہ مسلمانوں نے بھی اس میں سخت ٹھوکر کھائی ہے کہ دُعا جیسی شے کو ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے ہیں حالانکہ یہ فخر اور نا ز صرف اسلام کو ہی ہے۔دوسرے مذاہب اس سے بکلی بے بہرہ ہیں۔( تقریریں صفحہ سے تقریر حضرت اقدس تقریر جلسه سالانه ۲۹ دسمبر ۱۹۰۴ طبع اول ) دُعا اسلام کا خاص فخر ہے اور مسلمانوں کو اس پر بڑا ناز ہے۔مگر یہ یاد رکھو کہ یہ دعا زبانی بک بک کا نام نہیں ہے بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ دل خدا تعالیٰ کے خوف سے بھر جاتا ہے اور دُعا کرنے والے کی روح پانی کی طرح بہہ کر آستانہ الوہیت پر گرتی ہے اور اپنی کمزوریوں اور لغزشوں کے لئے قومی اور مقتدر خدا سے طاقت اور قوت اور مغفرت چاہتی ہے اور یہ وہ حالت ہے کہ دوسرے الفاظ میں اس کو موت کہہ سکتے ہیں۔جب یہ حالت میسر آجاوے تو یقیناً سمجھو کہ باب اجابت اس کے لئے کھولا جاتا ہے اور خاص قوت اور فضل اور استقامت بدیوں سے بچنے اور نیکیوں پر استقلال کے لئے عطا ہوتی ہے۔یہ ذریعہ سب سے بڑھ کر زبردست ہے۔مگر بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگ دُعا کی حقیقت اور حالت سے محض نا واقف ہیں اور اسی وجہ سے اس زمانہ میں بہت سے لوگ اس سے منکر ہو گئے ہیں کیونکہ وہ ان تاثیرات کو نہیں پاتے۔اور منکر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہے پھر دُعا کی کیا حاجت ہے؟ مگر میں خوب جانتا ہوں کہ یہ تو نرا بہانہ ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر اوّل مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۳) انہیں چونکہ دُعا کا تجربہ نہیں اس کی تاثیرات پر اطلاع نہیں اس لئے اس طرح کہہ دیتے ہیں ورنہ اگر وہ ایسے ہی متوکل ہیں تو پھر بیمار ہو کر علاج کیوں کرتے ہیں۔۔۔۔۔جب کہ دوسری اشیاء میں تاثیرات موجود ہیں تو کیا وجہ ہے کہ باطنی دنیا میں تاثیرات نہ ہوں۔جن میں سے دُعا ایک زبردست چیز ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۲) دُعا کرتے وقت بے دلی اور گھبراہٹ سے کام نہیں لینا چاہئے اور جلدی ہی تھک کر نہیں بیٹھنا چاہئے۔بلکہ اس وقت تک ہٹنا نہیں چاہئے جب تک دُعا اپنا پورا اثر نہ دکھائے۔جو لوگ تھک جاتے ہیں اور گھبرا جاتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں کیونکہ یہ محروم رہ جانے کی نشانی ہے میرے نزدیک دُعا بہت عمدہ چیز ہے اور میں اپنے