تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 327
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۷ سورة البقرة بات یہی ہے کہ انسان رضائے الہی کو حاصل کرے۔اس کے بعد روا ہے کہ انسان اپنی دنیوی ضروریات کے واسطے بھی دُعا کرے۔یہ اس واسطے روا رکھا گیا ہے کہ دنیوی مشکلات بعض دفعہ دینی معاملات میں بارج ہو جاتے ہیں۔خاص کر خامی اور کیچ پنے کے زمانہ میں یہ اُمور ٹھوکر کا موجب بن جاتے ہیں۔صلوۃ کا لفظ پرسوز معنی پر دلالت کرتا ہے جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے ویسی ہی گدازش دُعا میں پیدا ہونی چاہئے۔جب ایسی حالت کو پہنچ جائے جیسے موت کی حالت ہوتی ہے تب اُس کا نام صلوۃ ہوتا ہے۔البدر جلد نمبر ۸ مورخه ۲۵ رمئی ۱۹۰۵ ء صفحه ۴) اصل راہ اور گر خداشناسی کا دُعا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۵ء صفحه ۹) میرا مذہب بیماریوں کے دُعا کے ذریعہ سے شفا کے متعلق ایسا ہے کہ جتنا میرے دل میں ہے اتنا میں ظاہر نہیں کر سکتا۔طبیب ایک حد تک چل کر ٹھہر جاتا ہے اور مایوس ہو جاتا ہے مگر اُس کے آگے خدا دعا کے ذریعہ سے راہ کھول دیتا ہے۔خداشناسی اور خدا پر توکل اسی کا نام ہے کہ جو حد میں لوگوں نے مقرر کی ہوئی ہیں اُن سے آگے بڑھ کر رجا پیدا ہو۔ورنہ اس میں تو آدمی زندہ ہی مرجاتا ہے۔اسی جگہ سے اللہ تعالیٰ کی شناخت شروع ہو جاتی ہے۔۔۔۔عام لوگوں کے نزدیک جب کوئی معاملہ پاس کی حالت تک پہنچ جاتا ہے خدا تعالیٰ اندر ہی اندر تصرفات شروع کرتا ہے اور معاملہ صاف ہو جاتا ہے۔۔۔۔اکثر لوگ دُعا کی اصل فلاسفی سے ناواقف ہیں اور نہیں جانتے کہ دُعا کے ٹھیک ٹھکانہ پر پہنچنے کے واسطے کس قدر توجہ اور محنت درکار ہے۔در اصل دُعا کرنا ایک قسم کی موت کا اختیار کرنا ہوتا ہے۔(الحاکم جلد ۹ نمبر ۲۴ مورخه ۱۰ جولائی ۱۹۰۵ صفحه ۱۰) دُعا اور توجہ میں ایک روحانی اثر ہے۔جس کو طبعی لوگ جو صرف مادی نظر رکھنے والے ہیں نہیں سمجھ سکتے۔سنت اللہ میں دقیق در دقیق اسباب کا ذخیرہ ہے جو دُعا کے بعد اپنا کام کرتا ہے۔۔۔۔اس جہاں کے لوگ جب فتنہ وفساد کی کثرت کو دیکھ کر اس کی اصلاح سے عاجز آ جاتے ہیں۔تب اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ایسے قومی عطا کرتے ہیں۔جن کی توجہ سے سب کام درست ہو جاتے ہیں۔یہاں تک کہ دُعا کے ذریعہ سے عمریں بڑھ جاتی ہیں۔( بدر جلد نمبر۱۷ مؤرخہ ۲۷ جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ ۲) واضح ہو کہ استجابت دعا کا مسئلہ در حقیقت دُعا کے مسئلہ کی ایک فرع ہے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس شخص نے اصل کو سمجھا ہوا نہیں ہوتا اس کو فرع کے سمجھنے میں پیچیدگیاں واقع ہوتی ہیں اور دھو کے لگتے ہیں۔۔۔۔اور دُعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اس کے رب میں ایک تعلق مجاز بہ ہے یعنی پہلے خدا تعالی