تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 308
۳۰۸ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سفر میں تکالیف اٹھا کر جو انسان روزہ رکھتا ہے تو گویا اپنے زور بازو سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتا ہے اُس کو اطاعت امر سے خوش نہیں کرنا چاہتا ہی غلطی ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت امر اور نبی میں سچا ایمان ہے۔الحکم جلد ۳ نمبر ۴ مورخه ۳۱/جنوری ۱۸۹۹ء صفحه ۷) میرا مذہب یہ ہے کہ انسان بہت وقتیں اپنے اوپر نہ ڈال لے۔عرف میں جس کو سفر کہتے ہیں خواہ وہ دو تین کوس ہی ہو اُس میں قصر و سفر کے مسائل پر عمل کرے۔انما الْأَعْمَالُ بِالنِيَّاتِ بعض دفعہ ہم دودو تین تین میل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں مگر کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ ہم سفر میں ہیں لیکن جب انسان اپنی گٹھڑی اُٹھا کر سفر کی نیت سے چل پڑتا ہے تو وہ مسافر ہوتا ہے۔شریعت کی بنا وقت پر نہیں ہے جس کو تم عرف میں سفر سمجھو وہی سفر ہے اور جیسا کہ خدا کے فرائض پر عمل کیا جاتا ہے ویسا ہی اُس کی رخصتوں پر عمل کرنا چاہئے فرض بھی خدا کی طرف سے ہیں اور رخصت بھی خدا کی طرف سے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخه ۱۷ فروری ۱۹۰۱ صفحه ۱۳) اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے خدا تعالیٰ نے مسافر اور بیمار کو دوسرے وقت رکھنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس لئے اس حکم پر بھی تو عمل رکھنا چاہئے میں نے پڑھا ہے کہ اکثر اکا بر اس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی حالت سفر یا بیماری میں روزہ رکھتا ہے تو یہ معصیت ہے کیونکہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے نہ اپنی مرضی اور اللہ تعالیٰ کی رضا فرماں برداری میں ہے جو حکم وہ دے اس کی اطاعت کی جاوے اور اپنی طرف سے اس پر حاشیہ نہ چڑھایا جاوے اس نے تو یہی حکم دیا ہے مَنْ كَانَ مِنْكُمْ فَرِيضًا أَوْ عَلى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ۔اس میں کوئی قید اور نہیں لگائی کہ ایسا سفر ہو یا ایسی بیماری ہو میں سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا اور ایسا ہی بیماری کی حالت میں چنانچہ آج بھی میری طبیعت اچھی نہیں اور میں نے روز ہ نہیں رکھا۔الحکم جلد نمبر ۴ مورخه ۳۱ /جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۱۴) مَنْ كَانَ مِنْكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ۔اگر تم مریض ہو یا کسی سفر قلیل یا کثیر پر ہو تو اسی قدرروزے اور دنوں میں رکھ لو۔سو اللہ تعالیٰ نے سفر کی کوئی حد مقرر نہیں کی اور نہ احادیث نبوی میں حد پائی جاتی ہے بلکہ محاورہ عام میں جس قدر مسافت کا نام سفر رکھتے ہیں وہی سفر ہے ایک منزل (سے) جو کم حرکت ہو اس کو سفر نہیں کہا جا سکتا۔(مکتوبات جلد نم نمبر پنجم صفحه ۸۱ مکتوب ۲/ ۳۰ بنام حضرت صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب ) جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ صیام میں روزہ رکھتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی