تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 309
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠٩ سورة البقرة ا نافرمانی کرتا ہے خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے۔خدا کے اس حکم پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی نجات حاصل کر سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہو یا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمبا ہو بلکہ حکم عام ہے اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو اُن پر حکم عدولی کا فتوی لازم آئے گا۔( بدر جلد ۶ نمبر ۴۲ مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۷) سوال پیش ہوا کہ بعض اوقات رمضان ایسے موسم میں آتا ہے کہ کاشت کاروں سے جبکہ کام کی کثرت مثل تخمریزی و درودگی ہوتی ہے، ایسے ہی مزدوروں سے جن کا گزارہ مزدوری پر ہے روزہ نہیں رکھا جاتا۔ان کی نسبت کیا ارشاد ہے؟ فرمايا: الأعمال بالنیات۔یہ لوگ اپنی حالتوں کو مخفی رکھتے ہیں ہر شخص تقویٰ و طہارت سے اپنی حالت سوچ لے اگر کوئی اپنی جگہ مزدوری پر رکھ سکتا ہے تو ایسا کرے ورنہ مریض کے حکم میں ہے پھر جب ( بدر جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخہ ۲۶ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۷) میشر ہو رکھ لے۔وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنِ ) ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ یہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ توفیق کے واسطے ہے تا کہ روزہ کی توفیق اس سے حاصل ہو۔خدا ہی کی ذات ہے جو تو فیق عطا کرتی ہے اور ہر شے خدا ہی سے طلب کرنی چاہئے خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جاوے اور یہ خدا کے فضل سے ہوتا ہے۔۔۔۔پس میرے نزدیک خوب ہے کہ (انسان ) دُعا کرے کہ الہی ! یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کرسکوں یا نہ اور اُس سے تو فیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا طاقت بخش دے گا۔اگر خدا چاہتا تو دوسری امتوں کی طرح اس اُمت میں کوئی قید نہ رکھتا مگر اس نے قیدیں بھلائی کے واسطے رکھی ہیں۔میرے نزدیک اصل یہی ہے کہ جب انسان صدق اور کمال اخلاص سے باری تعالی میں عرض کرتا ہے کہ اس مہینے میں تو مجھے محروم نہ رکھ تو خدا اسے محروم نہیں رکھتا اور ایسی حالت میں اگر انسان ماہ رمضان میں بیمار ہو جاوے تو یہ بیماری اس کے حق میں رحمت ہوتی ہے کیونکہ ہر ایک عمل کا مدار نیت پر ہے۔مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دلاور ثابت کر دے جو شخص کہ روزے سے محروم