تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 307
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۷ فرمایا کہ بے خبری میں کھایا پیا تو اُس پر اُس روزہ کے بدلے میں دوسرا روزہ لازم نہیں آتا۔سورة البقرة الحکم جلدا نمبرے مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۷ صفحه ۱۴) ایک شخص کا حضرت کی خدمت میں سوال پیش ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے دن روزہ رکھنا ضروری ہے یا کہ نہیں؟۔فرمایا : ضروری نہیں ہے۔اسی طرح سوال پیش ہوا کہ محرم کے پہلے دس دن کا روزہ رکھنا ضروری ہے یا کہ نہیں؟ فرمایا: ضروری نہیں۔( بدر جلد ۶ نمبر ۱۱ مورخہ ۱۴ مارچ ۱۹۰۷ صفحه ۵) ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میں مکان کے اندر بیٹھا ہوا تھا اور میرا یقین تھا کہ ہنوز روزہ رکھنے کا وقت ہے اور میں نے کچھ کھا کر روزے کی نیت کی۔مگر بعد میں ایک دوسرے شخص سے معلوم ہوا کہ اس وقت سفیدی ظاہر ہو گئی تھی اب میں کیا کروں؟ حضرت نے فرمایا کہ ایسی حالت میں اس کا روزہ ہو گیا۔دوبارہ رکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اپنی طرف سے اس نے احتیاط کی اور نیت میں فرق نہیں صرف غلطی لگ گئی اور چند منٹوں کا فرق پڑ گیا۔( بدر جلد ۶ نمبرے مورخہ ۱۴ / فروری ۱۹۰۷ صفحه ۸) ايا ما مَعْدُودَتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَر وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَه وَ اَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۔(۱۸۵) منکم کا لفظ قرآن کریم میں قریباً بیاسی (۸۲) جگہ آیا ہے اور بجز دو یا تین جگہ کے جہاں کوئی خاص قرینہ قائم کیا گیا ہے باقی تمام مواضع میں منکم کے خطاب سے وہ تمام مسلمان مراد ہیں جو قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے۔فمن كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ یعنی جو تم میں سے مریض یا سفر پر ہو تو اتنے ہی روزے اور رکھ لے۔اب سوچو کہ کیا یہ حکم صحابہ سے ہی خاص تھا یا اس میں اور بھی مسلمان جو قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے شامل ہیں۔(شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۱) یعنی مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے اس میں امر ہے یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ جس کا اختیار ہور کھ لے جس کا اختیار ہو نہ رکھے میرے خیال میں مسافر کو روزہ نہیں رکھنا چاہئے اور چونکہ عام طور پر اکثر لوگ رکھ لیتے ہیں اس لئے اگر کوئی تعامل سمجھ کر رکھ لے تو کوئی ہرج نہیں مگر عِدَّةٌ مِنْ آيَامٍ اُخَرَ کا پھر بھی لحاظ رکھنا چاہئے۔۔۔۔۔