تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 306

۳۰۶ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تیسری بات جو اسلام کا رکن ہے وہ روزہ ہے۔روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتا نہیں اور جس عالم سے واقف نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اُسی قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے اور کشفی قو تیں بڑھتی ہیں۔خدا تعالیٰ کا منشاء اس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ہمیشہ روزہ دار کو یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اسے چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تا کہ تمبتل اور انقطاع حاصل ہو۔پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کے لئے تسلی اور سیری کا باعث ہے۔اور جولوگ محض خدا کے لئے روزے رکھتے ہیں اور نرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے انہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں۔جس سے دوسری غذا انہیں مل جاوے۔الحکم جلد ۱ نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۹) را روزہ اور نماز ہر دو عبادتیں ہیں۔روزے کا زور جسم پر ہے اور نماز کا زور روح پر ہے۔نماز سے ایک سوز وگداز پیدا ہوتی ہے۔اس واسطے وہ افضل ہے۔روزے سے کشوف پیدا ہوتے ہیں۔مگر یہ کیفیت بعض دفعہ جو گیوں میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔لیکن روحانی گدازش جو دعاؤں سے پیدا ہوتی ہے۔اس میں کوئی ( بدر جلد نمبر ۱۰ مورخه ۸ /مجون ۱۹۰۵ ء صفحه ۲) شامل نہیں۔ایک شخص کا سوال حضرت صاحب کی خدمت میں پیش ہوا کہ روزہ دار کو آئینہ دیکھنا جائز ہے یا نہیں۔فرمایا: جائز ہے۔اسی طرح ایک اور سوال پیش ہوا کہ حالت روزہ میں سر کو یا ڈاڑھی کو تیل لگانا جائز ہے یا نہیں۔فرمایا: جائز ہے۔سوال پیش ہوا کہ روزہ دار کو خوشبو لگانا جائز ہے یا نہیں۔فرمایا: جائز ہے۔سوال پیش ہوا کہ روزہ دار آنکھوں میں سرمہ ڈالے یا نہ ڈالے۔فرمایا: مکروہ ہے اور ایسی ضرورت ہی کیا ہے کہ دن کے وقت سرمہ لگائے۔رات کو سرمہ لگا سکتا ہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۶ مورخہ ۷ /فروری ۱۹۰۷ء صفحه ۴)