تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 10
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة البقرة پاک اور صاف ہو کر اور نفی خطرات کر کے نماز ادا کریں اور کوشش کریں کہ نماز ایک گری ہوئی حالت میں نہ رہے اور اس کے جس قدر ارکان حمد و ثنا حضرت عزت اور توبہ و استغفار اور دعا اور درود ہیں وہ دلی جوش سے صادر ہوں لیکن یہ تو انسان کے اختیار میں نہیں ہے کہ ایک فوق العادت محبت ذاتی اور خشوع ذاتی اور محویت سے بھرا ہوا ذوق و شوق اور ہر ایک کدورت سے خالی حضور اُس کی نماز میں پیدا ہو جائے گویا وہ خدا کو دیکھ لے اور ظاہر ہے کہ جب تک نماز میں یہ کیفیت پیدا نہ ہو وہ نقصان سے خالی نہیں۔اسی وجہ سے خدا تعالی نے فرمایا کہ متقی وہ ہیں جو نماز کو کھڑی کرتے ہیں اور کھڑی وہی چیز کی جاتی ہے جو گر نے کے لئے مستعد ہے۔پس آیت يُقِيمُونَ الصَّلوةَ کے یہ معنی ہیں کہ جہاں تک اُن سے ہو سکتا ہے نماز کو قائم کرنے کے لئے کوشش کرتے ہیں اور تکلف اور مجاہدات سے کام لیتے ہیں مگر انسانی کوششیں بغیر خدا تعالیٰ کے فضل کے بیکار ہیں۔اس لئے اُس کریم و رحیم نے فرمایا : هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یعنی جہاں تک ممکن ہو وہ تقویٰ کی راہ سے نماز کی اقامت میں کوشش کریں۔پھر اگر وہ میرے کلام پر ایمان لاتے ہیں تو میں ان کو فقط انہی کی کوشش اور سعی پر نہیں چھوڑوں گا بلکہ میں آپ ان کی دستگیری کروں گا۔تب اُن کی نماز ایک اور رنگ پکڑ جائے گی اور ایک اور کیفیت اُن میں پیدا ہو جائے گی جو اُن کے خیال و گمان میں بھی نہیں تھی۔یہ فضل محض اس لئے ہو گا کہ وہ خدا تعالی کے کلام قرآن شریف پر ایمان لائے اور جہاں تک اُن سے ہو سکا اُس کے احکام کے مطابق عمل میں مشغول رہے۔غرض نماز کے متعلق جس زائد ہدایت کا وعدہ ہے وہ یہی ہے کہ اس قدر طبعی جوش اور ذاتی محبت اور خشوع اور کامل حضور میتر آ جائے کہ انسان کی آنکھ اپنے محبوب حقیقی کے دیکھنے کے لئے کھل جائے اور ایک خارق عادت کیفیت مشاہدہ جمال باری کی میسر آ جائے جولذات روحانیہ سے سراسر معمور ہو اور دنیوی رذایل اور انواع و اقسام کے معاصی قولی اور فعلی اور بصری اور سماعی سے دل کو متنفر کر دے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ (هود: ۱۱۵) ایسا ہی مالی عبادت جس قدر انسان اپنی کوشش سے کر سکتا ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ اپنے اموال مرغوبہ میں سے کچھ خدا کے لئے دیوے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سورت میں فرمایا ہے: وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ اور جیسا کہ ایک دوسری جگہ فرمایا ہے: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا (ال عمران: ۹۳) لیکن ظاہر ہے کہ اگر مالی عبادت میں انسان صرف اسی قدر بجا لا دے کہ اپنے اموال محبوبہ مرغوبہ میں سے کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں دیوے تو یہ کچھ کمال نہیں ہے کمال تو یہ ہے کہ ماسولی سے بکلی دست بردار ہو جائے اور جو کچھ اُس کا ہے وہ