تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 11

سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُس کا نہیں بلکہ خدا کا ہو جائے یہاں تک کہ جان بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں فدا کرنے کے لئے طیار ہو کیونکہ وہ بھی مِبَارَزَقْنهُمْ میں داخل ہے خدا تعالیٰ کا منشاء اُس کے قول مِمَّا رَزَقْنَا سے صرف درہم و دینار نہیں ہے بلکہ یہ بڑا وسیع لفظ ہے جس میں ہر ایک وہ نعمت داخل ہے جو انسان کو دی گئی ہے۔غرض اِس جگہ بھی هُدًى لِلْمُتَّقِينَ فرمانے سے خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ جو کچھ انسان کو ہر ایک قسم کی نعمت مثلاً اُس کی جان اور صحت اور علم اور طاقت اور مال وغیرہ میں سے دیا گیا ہے اس کی نسبت انسان اپنی کوشش سے صرف مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ تک اپنا اخلاص ظاہر کر سکتا ہے اور اس سے بڑھ کر بشری قوتیں طاقت نہیں رکھتیں لیکن خدا تعالیٰ کا قرآن شریف پر ایمان لانے والے کے لئے اگر وہ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنفِقُونَ کی حد تک اپنا صدق ظاہر کرے گا بموجب آیت ھدی المتقین کے یہ وعدہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس قسم کی عبادات میں بھی کمال تک اُس کو پہنچا دے گا اور کمال یہ ہے کہ اُس کو یہ قوت ایثار بخشی جائے گی کہ وہ شرح صدر سے یہ سمجھ لے گا کہ جو کچھ اُس کا ہے خدا کا ہے اور کبھی کسی کو محسوس نہیں کرائے گا کہ یہ چیز میں اُس کی تھیں جس کے ذریعہ سے اُس نے نوع انسان کی خدمت کی۔مثلاً احسان کے ذریعہ سے کبھی انسان کسی کو محسوس کراتا ہے کہ اُس نے اپنا مال دوسرے کو دیا مگر یہ ناقص حالت ہے کیونکہ وہ تبھی محسوس کرے گا کہ جب اُس چیز کو اپنی چیز سمجھے گا۔پس جب بموجب آیت هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کے خدا تعالیٰ قرآن شریف پر ایمان لانے والے کو اس مقام سے ترقی بخشے گا تو وہ یہاں تک اپنی تمام چیزوں کو خدا کی چیز یں سمجھ لے گا کہ محسوس کرانے کی مرض بھی اُس کے دل میں سے جاتی رہے گی اور نوع انسان کے لئے ایک مادری ہمدردی اُس کے دل میں پیدا ہو جائے گی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اور کوئی چیز اس کی اپنی نہیں رہے گی بلکہ سب خدا کی ہو جائے گی اور یہ تب ہوگا کہ جب وہ سچے دل سے قرآن شریف اور نبی کریم پر ایمان لائے گا بغیر اس کے نہیں۔پس کس قدر گمراہ وہ لوگ ہیں جو بغیر متابعت قرآن شریف اور رسول کریم کے صرف خشک توحید کو موجب نجات ٹھہراتے ہیں بلکہ مشاہدہ ثابت کر رہا ہے کہ ایسے لوگ نہ خدا پر سچا ایمان رکھتے ہیں نہ دنیا کے لالچوں اور خواہشوں سے پاک ہو سکتے ہیں چہ جائیکہ وہ کسی کمال تک ترقی کریں اور یہ بات بھی بالکل غلط اور کورانہ خیال ہے کہ انسان خود بخو د نعمت توحید حاصل کر سکتا ہے بلکہ توحید خدا کی کلام کے ذریعہ سے ملتی ہے اور اپنی طرف سے جو کچھ سمجھتا ہے وہ شرک سے خالی نہیں۔اسی طرح خدا تعالی کی کتابوں پر ایمان لانے کے بارے میں انسانی کوشش صرف اس حد تک ہے کہ انسان تقوی اختیار کر کے اُس کی کتاب پر ایمان لاوے اور صبر