تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 9

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹ سورة البقرة جس کی رہنمائی صرف خدا ہی کرتا ہے انسانی کوشش کا اس میں دخل نہیں۔استقامت سے مُراد یہ ہے کہ ایسا ایمان دل میں رچ جائے کہ کسی ابتلاء کے وقت ٹھو کر نہ کھاویں اور ایسے طرز اور ایسے طور پر اعمال صالحہ صادر ہوں کہ اُن میں لذت پیدا ہو اور مشقت اور تلخی محسوس نہ ہو اور اُن کے بغیر جی ہی نہ سکیں گویا وہ اعمال رُوح کی غذا ہو جائیں اور اُس کی روٹی بن جائیں اور اُس کا آب شیریں بن جائیں کہ بغیر اس کے زندہ نہ رہ سکیں۔غرض استقامت کے بارے میں ایسے حالات پیدا ہو جائیں جن کو انسان محض اپنی سعی سے پیدا نہیں کر سکتا بلکہ جیسا کہ روح کا خدا کی طرف سے فیضان ہوتا ہے وہ فوق العادت استقامت بھی خدا کی طرف سے پیدا ہو جائے۔اور ترقی سے مراد یہ ہے کہ وہ عبادت اور ایمان جو انسانی کوششوں کی انتہا ہے اس کے علاوہ وہ حالات پیدا ہو جائیں جو محض خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے پیدا ہو سکتے ہیں۔یہ بات ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کے بارے میں انسانی سعی اور عقل صرف اس حد تک رہبری کرتی ہے کہ اس پوشیدہ خدا پر جس کا چہرہ نہیں دیکھا گیا ایمان لایا جائے اسی وجہ سے شریعت جو انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف دینا نہیں چاہتی اس بات کے لئے مجبور نہیں کرتی کہ انسان اپنی طاقت سے ایمان بالغیب سے بڑھ کر ایمان حاصل کرے۔ہاں! راستبازوں کو اسی آیت ھدی لِلْمُتَّقِينَ میں وعدہ دیا گیا ہے کہ جب وہ ایمان بالغیب پر هُدًى ثابت قدم ہو جائیں اور جو کچھ وہ اپنی سعی سے کر سکتے ہیں کر لیں تب خدا ایمان کی حالت سے عرفان کی حالت تک ان کو پہنچا دے گا اور اُن کے ایمان میں ایک اور رنگ پیدا کر دے گا۔قرآن شریف کی سچائی کی یہ ایک نشانی ہے کہ وہ جو اُس کی طرف آتے ہیں اُن کو اُس مرتبہ ایمان اور عمل پر رکھنا نہیں چاہتا کہ جو وہ اپنی کوشش سے اختیار کرتے ہیں کیونکہ اگر ایسا ہو تو کیونکر معلوم ہو کہ خدا موجود ہے بلکہ وہ انسانی کوششوں پر اپنی طرف سے ایک ثمرہ مرتب کرتا ہے جس میں خدائی چمک اور خدائی تصرف ہوتا ہے مثلاً جیسا کہ میں نے بیان کیا انسان خدا پر ایمان لانے کے بارہ میں اس سے زیادہ کیا کر سکتا ہے کہ وہ اس پوشیدہ خدا پر ایمان لاوے جس کے وجود پر ذرہ ذرہ اس عالم کا گواہ ہے مگر انسان کی یہ تو طاقت ہی نہیں ہے کہ محض اپنے ہی قدموں اور اپنی ہی کوشش اور اپنے ہی زور بازو سے خدا کے انوار الوہیت پر اطلاع پاوے اور ایمانی حالت سے عرفانی حالت تک پہنچ جاوے اور مشاہدہ اور رویت کی کیفیت اپنے اندر پیدا کر لے۔اسی طرح انسانی سعی اور کوشش نماز کے ادا کرنے میں اس سے زیادہ کیا کر سکتی ہے کہ جہاں تک ہو سکے