تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 222
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۲ سورة البقرة خط نہیں جانتے کہ دماغ تو صرف دلائل و براہین کا ملکہ ہے قوت متفکرہ اور حافظہ دماغ میں ہے لیکن قلب میں ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے وہ سردار ہے یعنی دماغ میں ایک قسم کا تکلف ہے اور قلب میں نہیں بلکہ وہ بلا تکلف ہے۔اس لئے قلب رب العرش سے ایک مناسبت رکھتا ہے صرف قوت حامہ کے ذریعہ دلائل و براہین کے بغیر پہچان جاتا ہے۔اسی لئے حدیث شریف میں آیا ہے کہ اِسْتَفْتِ الْقَلْبَ یعنی قلب سے فتویٰ پوچھ لے یہ نہیں کہا کہ دماغ سے فتویٰ پوچھ لو۔الوہیت کی تاراسی کے ساتھ لگی ہوئی ہے کوئی اس کو بعید نہ سمجھے یہ بات ادق اور مشکل تو ہے مگر تزکیہ نفس کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ مکر مات قلب میں موجود ہیں۔اگر قلب میں یہ طاقتیں نہ ہوتیں تو انسان کا وجود ہی بریکار سمجھا جاتا۔صوفی اور مجاہدہ کرنے والے لوگ جو تصوف اور مجاہدات کے مشاغل میں مصروف ہوتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ قلب سے روشنی اور نور کے ستون شہودی طور پر نکلتے ہوئے دیکھتے ہیں اور ایک مستقیم میں آسمان کو جاتے ہیں یہ مسئلہ بدیہی اور یقینی ہے میں اس کو خاص مثال کے ذریعہ سے بیان نہیں کر سکتا۔ہاں جن لوگوں کو مجاہدات کرنے پڑتے ہیں یا جنہوں نے سلوک کی منزلوں کو طے کرنا چاہا ہے انہوں نے اُس کو اپنے مشاہدہ اور تجربہ سے صحیح پایا ہے قلب اور عرش کے درمیان گویا بار یک تارہے قلب کو جو حکم کرتا ہے اس سے ہی لذت پاتا ہے خارجی دلائل اور براہین کا محتاج نہیں ہوتا ہے بلکہ مہم ہو کر خدا سے اندر ہی اندر باتیں پا کر فتوی دیتا ہے۔ہاں یہ بات سچ ہے کہ جب تک قلب قلب نہ بنے لَو كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ الملك :(۱) کا مصداق ہوتا ہے یعنی انسان پر ایک وہ زمانہ آتا ہے کہ جس میں نہ قلب و دماغ کی قوتیں اور طاقتیں ہوتی ہیں۔پھر ایک زمانہ دماغ کا آتا ہے۔دماغی قوتیں اور طاقتیں نشوونما پاتی ہیں اور ایک ایسا زمانہ آتا ہے کہ قلب مئور اور مشتعل اور روشن ہو جاتا ہے جب قلب کا زمانہ آتا ہے۔اُس وقت انسان روحانی بلوغ حاصل کرتا ہے اور دماغ قلب کے تابع ہو جاتا ہے۔اور دماغی قوتوں کو قلب کی خاصیتوں اور طاقتوں پر فوق نہیں ہوتا۔یہ بھی یادر ہے کہ دماغی حالتوں کو مومنوں سے ہی خصوصیت نہیں ہے۔ہندو اور چوڑھے وغیرہ بھی سب کے سب ہر ایک دماغ سے کام لیتے ہیں جو لوگ دنیوی معاملات اور تجارت کے کاروبار میں مصروف ہیں وہ سب کے سب دماغ سے کام لیتے ہیں ان کی دماغی قوتیں پورے طور پر نشو نما پائی ہوئی ہوتی ہیں اور ہر روز نئی نئی باتیں اپنے کاروبار کے متعلق ایجاد کرتے ہیں یورپ اور نئی دنیا کو دیکھو کہ یہ لوگ کس قدر دماغی قوتوں سے کام لیتے ہیں اور کس قدر آئے دن نئی ایجادیں کرتے ہیں۔قلب کا کام جب ہوتا ہے جب انسان خدا کا