تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 223

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۲۳ سورة البقرة بنتا ہے اُس وقت اندر کی ساری طاقتیں اور ریاستیں معدوم ہو کر قلب کی سلطنت ایک اقتدار اور قوت حاصل کرتی ہے تب انسان کامل انسان کہلاتا ہے یہ وہی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحى (الحجر : ٣٠) کا مصداق ہوتا ہے۔اور ملائکہ تک اسے سجدہ کرتے ہیں۔اس وقت وہ ایک نیا انسان ہوتا ہے اس کی روح پوری لذت اور سرور سے سرشار ہوتی ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۹ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۱ ء صفحه ۴،۳) مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلهِ وَ مَلَكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَ جِبْرِيلَ وَمِيْكُلَ فَإِنَّ اللهَ عَدُ تلكفِرِينَ ۹۹ یعنی جو شخص خدا اور اُس کے فرشتوں اور اس کے پیغمبروں اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو خدا ایسے کافروں کا خود دشمن ہے۔اب ظاہر ہے کہ جو شخص تو حید خشک کا تو قائل ہے مگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذب ہے وہ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے لہذا بموجب منشاء اس آیت کے خدا اُس کا دشمن ہے اور وہ خدا کے نزدیک کافر ہے تو پھر اس کی نجات کیوں کر ہو سکتی ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۲۹،۱۲۸) ذرہ ذرہ عالم کا جس سے انواع واقسام کے تغیرات ہوتے رہتے ہیں یہ سب خدا کے فرشتے ہیں اور توحید پوری نہیں ہوتی جب تک ہم ذرہ ذرہ کو خدا کے فرشتے مان نہ لیں کیونکہ اگر ہم تمام مؤثرات کو جو دنیا میں پائی جاتی ہیں خدا کے فرشتے تسلیم نہ کر لیں تو پھر ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ تمام تغیرات انسانی جسم اور تمام عالم میں بغیر خدا تعالیٰ کے علم اور ارادہ اور مرضی کے خود بخود ہورہے ہیں اور اس صورت میں خدا تعالیٰ کو محض معطل اور بے خبر ماننا پڑے گا۔پس فرشتوں پر ایمان لانے کا یہ راز ہے کہ بغیر اس کے تو حید قائم نہیں رہ سکتی اور ہر ایک چیز کو اور ہر ایک تاثیر کو خدا تعالیٰ کے ارادہ سے باہر ماننا پڑتا ہے اور فرشتہ کا مفہوم تو یہی ہے کہ فرشتے وہ چیزیں ہیں جو خدا کے حکم سے کام کر رہی ہیں پس جبکہ یہ قانون ضروری اور مسلم ہے تو پھر جبرئیل اور میکائیل سے کیوں انکار کیا جائے؟ (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۸۱ حاشیه ) وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيْطينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَنَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ وَ لكِن ق ج الشَّيطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِمَنِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا