تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 221

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۱ سورة البقرة کہلاتے ہیں کچھ بھی ڈرتے نہیں اگر ان کے ایسے عقیدوں کو ترک کرنا کفر ہے تو ایسا کفر اگر ملے تو ز ہے سعادت۔ہم ان کے ایسے ایمان سے سخت بیزار ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف ان کے ایسے اقوال سے داد خواہ ہیں جن کی وجہ سے سخت اہانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں میں ہو رہی ہے ان لوگوں کے حق میں کیا کہیں اور کیا لکھیں جنہوں نے کفار کو نسی اور ٹھٹھہ کا موقع دیا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو حضرت عیسی کی نسبت ایسا اور اس قدر گھٹا دیا کہ جس کے تصور سے بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۷ تا ۱۲۶) اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود میں تین قسم کی حکومت رکھی ہے ایک دماغ ، دوسرا دل ، تیسری زبان، دماغ عقول اور براہین سے کام لیتا ہے اور اس کا یہ کام ہے کہ ہر وقت وہ ایک تراش خراش میں لگا رہتا ہے۔اور نئی نئی براہین اور حج کوسوچتا رہتا ہے۔اس کے سپر دیہی خدمت ہے کہ وہ مقدمات مرتب کر کے نتائج نکالتا رہتا ہے۔قلب تمام وجود کا بادشاہ ہے یہ دلائل سے کام نہیں لیتا چونکہ اس کا تعلق ملک الملوک سے ہے اس لئے کبھی صریح الہام سے کبھی خفی الہام سے اطلاع پاتا ہے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ دماغ وزیر ہے وزیر مدیر ہوتے ہیں اس لئے دماغ تجاویز ، اسباب، دلائل اور نتائج کے متعلق کام میں لگارہتا ہے قلب کو ان سے کام نہیں ہے اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے قوت حائہ رکھی ہے جیسے چیونٹی جہاں کوئی شیرینی رکھی ہوئی ہو معا اس جگہ پر پہنچ جاتی ہے حالانکہ اس کے لئے کوئی دلیل اس امر کی نہیں ہوتی کہ وہاں شیرینی ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے اس میں ایک قوتِ حاتہ رکھی ہوئی ہوتی ہے جو اس کی رہبری کرتی ہے اسی طرح پر قلب کو چیونٹی کے ساتھ مشابہت ہے کیونکہ اس میں بھی وہ قوت حانہ موجود ہے جو اس کی رہنمائی کرتی ہے اور وہ دلائل و براہین اور ترتیب مقدمات اور استخراج نتائج کی ضرورت نہیں رکھتا۔گو یہ امر دیگر ہے کہ دماغ اس کے لئے یہ اسباب اور امور بھی بہم پہنچا دیتا ہے۔قلب کے معنے ایک ظاہری اور جسمانی ہیں اور ایک روحانی۔ظاہری معنی تو یہی ہیں کہ پھرنے والا چونکہ دوران خون اسی سے ہوتا ہے اس لئے اس کو قلب کہتے ہیں روحانی طور پر اس کے یہ معنی ہیں کہ جو ترقیات انسان کرنا چاہتا ہے وہ قلب ہی کے تصرف سے ہوتی ہیں جس طرح پر دوران خون جو انسانی زندگی کے لئے ایک اشد ضروری چیز ہے اسی قلب سے ہوتا ہے اسی طرح پر روحانی ترقیوں کا اسی کے تصرف پر انحصار ہے۔بعض نادان آج کل کے فلسفی بیخبر ہیں وہ تمام عمدہ کا روبار کو دماغ سے ہی منسوب کرتے ہیں مگر وہ اتنا