تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 201
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۱ سورة البقرة بھی سرایت کرتا ہے اور پیروں میں بھی اپنا اثر پہنچاتا ہے۔غرض تمام ظلمت کو وجود میں سے اُٹھا دیتا ہے اور سر کے بالوں سے لے کر پیروں کے ناخنوں تک منور کر دیتا ہے اور اگر ایک طرفۃ العین کے لئے بھی علیحدہ ہو جائے تو فی الفور اس کی جگہ ظلمت آجاتی ہے مگر وہ کاملوں کو ایسا نعم القرین عطا کیا گیا ہے کہ ایک دم کے لئے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہوتا اور یہ گمان کرنا کہ اُن سے علیحدہ بھی ہو جاتا ہے یہ دوسرے لفظوں میں اس بات کا اقرار ہے کہ وہ بعد اس کے جو روشنی میں آگئے پھر تاریکی میں پڑ جاتے ہیں اور بعد اس کے جو معصوم یا محفوظ کئے گئے پھر نفس اتارہ اُن کی طرف عود کرتا ہے اور بعد اس کے جو روحانی حواس اُن پر کھولے گئے پھر وہ تمام حواس بے کار اور معطل کئے جاتے ہیں۔سواے دے لوگو جو اس صداقت سے منکر اور اس نکتہ معرفت سے انکاری ہو مجھ سے جلدی مت کرو اور اپنے ہی نور قلب سے گواہی طلب کرو کہ کیا یہ امر واقعی ہے کہ برگزیدوں کی روشنی کسی وقت بتمام و کمال ان سے دور بھی ہو جاتی ہے۔کیا یہ درست ہے؟ کہ وہ تمام نورانی نشان کامل مومنوں سے کمال ایمان کی حالت میں کبھی تم بھی ہو جاتے ہیں۔اگر یہ کہو کہ ہم نے کب اور کس وقت کہا ہے کہ برگزیدوں کی روحانی روشنی کبھی سب کی سب دور بھی ہو جاتی ہے اور سراسر ظلمت ان پر احاطہ کر لیتی ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ آپ لوگوں کے عقیدہ سے ایسا ہی نکلتا ہے کیونکہ آپ لوگ بالتزام و اتباع آیات کلام الہی اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ ہر یک نور اور سکینت اور اطمینان اور برکت اور استقامت اور ہر یک روحانی نعمت برگزیدوں کو روح القدس سے ہی ملتی ہے اور جیسے اشرار اور کفار کے لئے دائمی طور پر شیطان کو پنس القرين قرار دیا گیا ہے تا ہر وقت وہ ان پر ظلمت پھیلا تا رہے اور اُن کے قیام اور قعود اور حرکت اور سکون اور نیند اور بیداری میں اُن کا پیچھا نہ چھوڑے ایسا ہی مقربین کے لئے دائمی طور پر روح القدس کو نِعْمَ الْقَرِين عطا کیا گیا ہے تا ہر وقت وہ اُن پرنور برساتا رہے اور ہر دم اُن کی تائید میں لگا ر ہے اور کسی دم اُن سے جُدا نہ ہو۔اب ظاہر ہے کہ جب کہ بمقابل بِئْسَ الْقَرِينُ کے جو ہمیشہ اشد شریروں کا ملازم اور رفیق ہے مقتربوں کے لئے نِعْمَ الْقَرِین کا ہر وقت رفیق اور انیس ہونا نہایت ضروری ہے اور قرآن کریم اس کی خبر دیتا ہے تو پھر اگر اُس نِعْمَ الْقَرِین کی علیحدگی مقربوں سے تجویز کی جائے جیسا کہ ہمارے اندرونی مخالف قومی بھائی گمان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ روح القدس جبرائیل کا نام ہے بھی تو وہ آسمان سے نازل ہوتا ہے اور مقتربوں سے نہایت درجہ اتصال کر لیتا ہے یہاں تک کہ اُن کے دل میں دھنس جاتا ہے اور بھی ان کو اکیلا چھوڑ کر اُن