تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 202

۲۰۲ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جُدائی اختیار کر لیتا ہے اور کروڑہا بلکہ بے شمار کوسوں کی دوری اختیار کر کے آسمان پر چڑھ جاتا ہے اور اُن مقتربوں سے بالکل قطع تعلقات کر کے اپنی قرارگاہ میں جا چھپتا ہے تب وہ اُس روشنی اور اُس برکت سے بکلی محروم رہ جاتے ہیں جو اُس کے نزول کے وقت اُن کے دل اور دماغ اور بال بال میں پیدا ہوتی ہے تو کیا اس عقیدہ سے لازم نہیں آتا کہ رُوح القدس کے جُدا ہونے سے پھر اُن برگزیدوں کو ظلمت گھیر لیتی ہے اور نعوذ باللہ انعْمَ الْقَرِينُ کی جدائی کی وجہ سے بِئْسَ الْقَدِین کا اثر اُن میں شروع ہو جاتا ہے۔اب ذرہ خوف الہی کو اپنے دل میں جگہ دے کر سوچنا چاہئے کہ کیا یہی ادب اور یہی ایمان اور عرفان ہے اور یہی محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس نقص اور تنزل کی حالت کو روا رکھا جائے کہ گویا روح القدس آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم سے مدتوں تک علیحدہ ہو جاتا تھا اور نعوذ باللہ ان مدتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انوار قدسیہ سے جو روح القدس کا پر توہ ہے محروم ہوتے تھے۔غضب کی بات ہے کہ عیسائی لوگ تو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت یقینی اور قطعی طور پر یہ اعتقاد رکھیں کہ روح القدس جب سے حضرت مسیح پر نازل ہوا کبھی ان سے جدا نہیں ہوا اور وہ ہمیشہ اور ہر دم روح القدس سے تائید یافتہ تھے یہاں تک کہ خواب میں بھی ان سے روح القدس خدا نہیں ہوتا تھا اور ان کا روح القدس بھی آسمان پر ان کو اکیلا اور مہجور چھوڑ کر نہیں گیا اور نہ روح القدس کی روشنی ایک دم کے لئے بھی کبھی ان سے جُدا ہوئی لیکن مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روح القدس آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم سے جُدا بھی ہو جاتا تھا اور اپنے دشمنوں کے سامنے بصراحت تمام یہ اقرار کریں کہ رُوح القدس کی دائمی رفاقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عیسی کی طرح نصیب نہیں ہوئی۔اب سوچو کہ اس سے زیادہ تر اور کیا بے ادبی اور گستاخی ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح تو ہین کی جاتی ہے اور عیسائیوں کو اعتراض کرنے کے لئے موقع دیا جاتا ہے اس بات کو کون نہیں جانتا کہ روح القدس کا نزول نورانیت کا باعث اور اس کا جُدا ہو جانا ظلمت اور تاریکی اور بدخیالی اور تفرقہ ایمان کا موجب ہوتا ہے خدا تعالیٰ اسلام کو ایسے مسلمانوں کے شرسے بچاوے جو کلمہ گو کہلا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی حملہ کر رہے ہیں۔عیسائی لوگ تو حواریوں کی نسبت بھی یہ اعتقاد نہیں رکھتے کہ کبھی ان سے روح القدس خدا ہوتا تھا بلکہ ان کا تو یہ عقیدہ ہے کہ وہ لوگ روح القدس کا فیض دوسروں کو بھی دیتے تھے۔لیکن یہ لوگ مسلمان کہلا کر اور مولوی اور محدث اور شیخ الکل نام رکھا کر پھر جناب ختم المرسلین خیر الاولین والآخرین کی شان میں ایسی