تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 200
سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف اس دوسری آیت میں بھی اشارہ ہے اور وہ یہ ہے۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ۔۔۔۔۔لا يُشْرِكُونَ بي شَيْئًا ( النور :۵۶) یعنی خدا نے اُن لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کئے یہ وعدہ کیا ہے کہ البتہ انہیں زمین میں اسی طرح خلیفہ کرے گا جیسا کہ اُن لوگوں کو کیا جو اُن سے پہلے گزر گئے اور اُن کے دین کو جو اُن کے لئے پسند کیا ہے ثابت کر دے گا اور اُن کے لئے خوف کے بعد امن کو بدل دے گا میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔(شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۲ تا ۳۲۴) ايد لهُ بِرُوحِ الْقُدُ ہیں۔جب محبت الہی بندہ کی محبت پر نازل ہوتی ہے تب دونوں محبتوں کے ملنے سے روح القدس کا ایک روشن اور کامل سامی انسان کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے اور لقا کے مرتبہ پر اس روح القدس کی روشنی نہایت ہی نمایاں ہوتی ہے اور اقتداری خوارق جن کا ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں اسی وجہ سے ایسے لوگوں سے صادر ہوتے ہیں کہ یہ روح القدس کی روشنی ہر وقت اور ہر حال میں ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اُن کے اندر سکونت رکھتی ہے اور وہ اُس روشنی سے کبھی اور کسی حال میں جدا نہیں ہوتے اور نہ وہ روشنی ان سے جُدا ہوتی ہے۔وہ روشنی ہر دم اُن کے تنفس کے ساتھ نکلتی ہے اور اُن کی نظر کے ساتھ ہر یک چیز پر پڑتی ہے۔اور اُن کی کلام کے ساتھ اپنی نورانیت لوگوں کو دکھلاتی ہے اسی روشنی کا نام روح القدس ہے مگر یہ حقیقی روح القدس نہیں حقیقی روح القدس وہ ہے جو آسمان پر ہے یہ روح القدس اُس کا ظلت ہے جو پاک سینوں اور ولوں اور دماغوں میں ہمیشہ کے لئے آباد ہو جاتا ہے اور ایک طرفہ اعین کے لئے بھی اُن سے جدا نہیں ہوتا اور جو شخص تجویز کرتا ہے کہ یہ روح القدس کسی وقت اپنی تمام تاثیرات کے ساتھ ان سے جُدا ہو جاتا ہے وہ شخص سراسر باطل پر ہے اور اپنے پر ظلمت خیال سے خدا تعالیٰ کے مقدس برگزیدوں کی تو ہین کرتا ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ حقیقی روح القدس تو اپنے مقام پر ہی رہتا ہے لیکن روح القدس کا سایہ جس کا نام مجاز اروح القدس ہی رکھا جاتا ہے اُن سینوں اور دلوں اور دماغوں اور تمام اعضا میں داخل ہوتا ہے جو مرتبہ بقا اور لقا کا پاکر اس لائق ٹھہر جاتے ہیں کہ اُن کی نہایت اصفی اور اصلی محبت پر خدا تعالیٰ کی کامل محبت اپنی برکات کے ساتھ نازل ہو۔اور جب وہ روح القدس نازل ہوتا ہے تو اس انسان کے وجود سے ایسا تعلق پکڑ جاتا ہے کہ جیسے جان کا تعلق جسم سے ہوتا ہے وہ قوت بینائی بن کر آنکھوں میں کام دیتا ہے اور قوت شنوائی کا جامہ پہن کر کانوں کو روحانی حس بخشتا ہے وہ زبان کی گویائی اور دل کے تقویٰ اور دماغ کی ہشیاری بن جاتا ہے اور ہاتھوں میں