تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 199

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٩٩ سورة البقرة تنقید کرتا جاوے وہ صحیح ہوتا جاوے گا اگر احادیث میں نزول مسیح کا ذکر تھا تو دیکھئے قرآن شریف میں وَقَفَيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ موجود ہے جو کہ اصل حقیقت کو واضح کر رہا ہے۔(البدر جلد نمبر ۱۰ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۵) وَ لَقَدْ أَتَيْنَا مُوسَى الْكِتَب وَ قَقَيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ۔یعنی ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور بہت سے رسل اس کے پیچھے آئے۔چونکہ مماثلت فی الانعامات ہونا از بس ضروری ہے اور مماثلت تامہ تبھی متحقق ہو سکتی تھی کہ جب مماثلت فی الانعامات متحقق ہو۔پس اسی لئے یہ ظہور میں آیا کہ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قریباً چودہ سو برس تک ایسے خدام شریعت عطا کئے گئے کہ وہ رسول اور مہم من اللہ تھے اور اختتام اس سلسلہ کا ایک ایسے رسول پر ہوا جس نے تلوار سے نہیں بلکہ فقط رحمت اور خلق سے حق کی طرف دعوت کی۔اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہ خدام شریعت عطا کئے گئے جو بر طبق حديث عُلَمَاء أُمَّتِي كَانْبِيَاءِ بَنِي اسرائیل ملہم اور محدث تھے اور جس طرح موسیٰ کی شریعت کے آخری زمانہ میں حضرت مسیح علیہ السلام بھیجے گئے جنہوں نے نہ تلوار سے بلکہ صرف خلق اور رحمت سے دعوت حق کی۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے اس شریعت کے لئے مسیح موعود کو بھیجا تا وہ بھی صرف خُلق اور رحمت اور انوار آسانی سے راہ راست کی دعوت کرے اور جس طرح حضرت مسیح حضرت موسیٰ علیہ السلام سے قریباً چودہ سو برس بعد آئے تھے اس مسیح موعود نے بھی چودھویں صدی کے سر پر ظہور کیا اور محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ سے انطباق کلی پا گیا۔اور اگر یہ کہا جائے کہ موسوی سلسلہ میں تو حمایت دین کیلئے نبی آتے رہے اور حضرت مسیح بھی نبی تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرسل ہونے میں نبی اور محدث ایک ہی منصب رکھتے ہیں اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے نبیوں کا نام مرسل رکھا ایسا ہی محد ثین کا نام بھی مرسل رکھا۔اسی اشارہ کی غرض سے قرآن شریف میں وَ قَطَيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ آیا ہے اور یہ نہیں آیا کہ قفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالْاَنْبِيَاءِ۔پس یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسل سے مُراد مرسل ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا محدث ہوں چونکہ ہمارے سید و رسول صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی نہیں آسکتا اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدّث رکھے گئے اور اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے کہ فلةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ (الواقعة: ۳۱۰۴۰) چونکہ قله کا لفظ دونوں فقروں میں برابر آیا ہے۔اس لئے قطعی طور پر یہاں سے ثابت ہوا کہ اس اُمت کے محدث اپنی تعداد میں اور اپنے طولانی سلسلہ میں موسوی اُمت کے مرسلوں کے برابر ہیں اور در حقیقت اسی و بدو