تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 190
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٩٠ سورة البقرة اُن کے لئے ڈال رہا ہوں تا مجھے ثواب ہو۔میں نے جواب دیا کہ اے بڑھے تیرا یہ خیال غلط ہے۔تو مشرک ہے اور مشرک کو کوئی ثواب نہیں ملتا کیونکہ تو آتش پرست ہے۔یہ کہہ کر میں نیچے اُتر آیا۔کچھ مدت کے بعد مجھے حج کرنے کا اتفاق ہوا اور میں مکہ معظمہ پہنچا اور جب میں طواف کر رہا تھا تو میرے پیچھے سے ایک طواف کرنے والے نے مجھے میرا نام لے کر آواز دی۔جب میں نے پیچھے کی طرف دیکھا تو وہی بڑھا تھا جو مشرف باسلام ہو کر طواف کر رہا تھا۔اُس نے مجھے کہا کہ کیا ان دانوں کا جو میں نے پرندوں کو ڈالے تھے مجھے ثواب ملایا نہ ملا؟ پس جبکہ پرندوں کو دانہ ڈالنا آخر کھینچ کر اسلام کی طرف لے آتا ہے تو پھر جو شخص اس کچے بادشاہ قادر حقیقی پر ایمان لاوے تو کیا وہ اسلام سے محروم رہے گا۔ہر گز نہیں۔عاشق که شد که یار بحالش نظر نہ کرو اے خواجہ درد نیست و گرنه طبیب ہست یا در ہے کہ اول تو توحید بغیر پیروی نبی کریم کے کامل طور پر حاصل نہیں ہو سکتی جیسا کہ ابھی ہم بیان کر آئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات جو اس کی ذات سے الگ نہیں ہو سکتیں بغیر آئینہ، وحی نبوت کے مشاہدہ میں آنہیں سکتیں۔اُن صفات کو مشاہدہ کے رنگ میں دکھلانے والا محض نبی ہوتا ہے۔علاوہ اس کے اگر بفرض محال حصول اُن کا ناقص طور پر ہو جائے تو وہ شرک کی آلائش سے خالی نہیں جب تک کہ خدا اسی مغشوش متاع کو قبول کر کے اسلام میں داخل نہ کرے کیونکہ جو کچھ انسان کو خدا تعالیٰ سے اُس کے رسول کی معرفت ملتا ہے وہ ایک آسمانی پانی ہے اس میں اپنے فخر اور تُجب کو کچھ دخل نہیں لیکن انسان اپنی کوشش سے جو کچھ حاصل کرتا ہے۔اس میں ضرور کوئی شرک کی آلائش پیدا ہو جاتی ہے۔پس یہی حکمت تھی کہ تو حید کو سکھلانے کے لئے رسول بھیجے گئے اور انسانوں کی محض عقل پر نہیں چھوڑا گیا تا توحید خالص رہے اور انسانی عجب کا شرک اس میں مخلوط نہ ہو جائے اور اسی وجہ سے فلاسفہ ضالہ کو توحید خالص نصیب نہیں ہوئی۔کیونکہ وہ رعونت اور تکبر اور عجب میں گرفتار ر ہے اور توحید خالص نیستی کو چاہتی ہے اور وہ نیستی جب تک انسان سچے دل سے یہ نہ سمجھے کہ میری کوشش کا کچھ دخل نہیں یہ محض انعام الہی ہے حاصل نہیں ہو سکتی۔مثلاً ایک شخص تمام رات جاگ کر اور اپنے نفس کو مصیبت میں ڈال کر اپنے کھیت کی آب پاشی کر رہا ہے اور دوسرا شخص تمام رات سوتا رہا اور ایک بادل آیا اور اُس کے کھیت کو پانی سے بھر دیا۔اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا وہ دونوں خدا کا شکر کرنے میں برابر ہوں گے؟ ہر گز نہیں۔بلکہ وہ زیادہ شکر کرے گا جس کے کھیت کو بغیر اُس کی محنت کے پانی دیا گیا۔اسی لئے خدا تعالیٰ کے کلام میں بار بار آیا ہے کہ اس خدا کا شکر کرو جس نے رسول بھیجے اور تمہیں تو حید سکھائی۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۷۲ تا ۱۷۹)