تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 189
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹ سورة البقرة روزہ وغیرہ کے سکھلائے ہیں وہ سب کچھ بیہودہ اور لغو اور عبث ٹھہرتا ہے۔کیونکہ اگر یہی بات ہے کہ ہر ایک شخص اپنی خیالی توحید سے نجات پاسکتا ہے تو پھر نبی کی تکذیب کچھ بھی گناہ نہیں اور نہ مرتد ہونا کسی کا کچھ بگاڑ سکتا ہے۔پس یادر ہے کہ قرآن شریف میں کوئی بھی ایسی آیت نہیں کہ جو نبی کریم کی اطاعت سے لا پروا کرتی ہو اور اگر بالفرض وہ دو تین آیتیں ان صدہا آیتوں کے مخالف ہو تیں تب بھی چاہئے تھا کہ قلیل کو کثیر کے تابع کیا جاتا نہ کہ کثیر کو بالکل نظر انداز کر کے ارتداد کا جامہ پہن لیں۔اور اس جگہ آیات کلام اللہ میں کوئی تناقض بھی نہیں صرف اپنے فہم کا فرق اور اپنی طبیعت کی تار کی ہے۔ہمیں چاہئے کہ اللہ کے لفظ کے وہ معنی کریں جو خدا تعالیٰ نے خود کئے ہیں نہ کہ اپنی طرف سے یہودیوں کی طرح اور معنی بناویں۔ماسوا اس کے خدا تعالیٰ کے کلام اور اس کے رسولوں کی قدیم سے یہ سنت ہے کہ وہ ہر ایک سرکش اور سخت منکر کو اس پیرایہ سے بھی ہدایت کیا کرتے ہیں کہ تم صحیح اور خالص طور پر خدا پر ایمان لاؤ۔اُس سے محبت کرو۔اُس کو واحد لاشریک سمجھو تب تمہاری نجات ہو جائے گی اور اس کلام سے مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ پورے طور سے خدا پر ایمان لائیں گے تو خدا ان کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دے دے گا۔قرآن شریف کو یہ لوگ نہیں پڑھتے۔اس میں صاف لکھا ہے کہ خدا پر سچا ایمان لانا اُس کے رسول پر ایمان لانے کے لئے موجب ہو جاتا ہے اور ایسے شخص کا سینہ اسلام کو قبول کرنے کیلئے کھولا جاتا ہے اس لئے میرا بھی یہی دستور ہے کہ جب کوئی آریہ یا برہمو یا عیسائی یا یہودی یا سکھ یا اور منکر اسلام کی بھی کرتا ہے اور کسی طرح باز نہیں آتا تو آخر کہہ دیا کرتا ہوں کہ تمہاری اس بحث سے تمہیں کچھ فائدہ نہیں ہو گا تم خدا پر پورے اخلاص سے ایمان لاؤ اس سے وہ تمہیں نجات دے گا۔مگر اس کلمہ سے میرا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بغیر متابعت نبی کریم کے نجات مل سکتی ہے بلکہ میرا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو شخص پورے صدق سے خدا پر ایمان لائے گا خدا اُس کو تو فیق بخش دے گا اور اپنے رسول پر ایمان لانے کے لئے اُس کا سینہ کھول دے گا۔ایسا ہی میں نے تجربہ سے دیکھا ہے کہ ایک نیکی دوسری نیکی کی توفیق بخشتی ہے اور ایک نیک عمل دوسرے نیک عمل کی طاقت دے دیتا ہے۔تذکرۃ الاولیاء میں یہ ایک عجیب حکایت لکھی ہے کہ ایک بزرگ اہل اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ چند دن بارش رہی اور بہت مینہ برسا۔مینہ تقسم جانے کے بعد میں اپنے کوٹھے پر کسی کام کے لئے چڑھا اور میرا ہمسایہ ایک بڑھا آتش پرست تھا وہ اُس وقت اپنے کو ٹھے پر بہت سے دانے ڈال رہا تھا۔میں نے سبب پوچھا تو اُس نے جواب دیا کہ چند روز سے بباعث بارش پرندے بھوکے ہیں مجھے اُن پر رحم آیا اس لئے میں یہ دانے