تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 191
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۱ سورة البقرة اللہ پر ایمان لانے کے یہ معنے ہیں کہ اُسے اُن تمام صفات سے موصوف مانا جاوے جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے مثلا رب ، رحمن، رحیم، تمام محامد والا ، رسولوں کا بھیجنے والا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے والا اب آپ ہی بتلاویں کہ قرآن شریف میں لفظ اللہ کے یہ معنے ہیں کہ نہیں پھر جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا۔قرآن کو نہیں مانتا تو اس نے کیا اُس اللہ کو مانا جسے قرآن نے پیش کیا ہے۔جیسے گلاب کے پھول سے خوشبو دور کر دی جاوے تو پھر وہ گلاب کا پھول پھول نہیں رہتا اور اُسے پھینک دیتے ہیں پس اسی طرح اللہ کو ماننے والا وہی ہو گا جو اُسے اُن صفات کے ساتھ مانے جو قرآن نے بیان کئے ہیں۔البدر جلد ۲ نمبر ۳۴ مورخه ۱۱رستمبر ۱۹۰۳ صفحه ۳۶۵) لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔اگر کوئی ہم و غم واقع بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے الہام سے اس کے لئے خارجی اسباب ان کے دُور کرنے کے پیدا کر دیتا ہے یا خارق عادت صبر ان کو عطا کرتا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۵ صفحه ۸) متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا، چوری،تلف حقوق، ریا، تُجب ، حقارت، بخل کے ترک میں پکا ہو تو اخلاق رذیلہ سے پر ہیز کر کے ان کے بالمقابل اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔لوگوں سے مروّت ، خوشی خلقی ، ہمدردی سے پیش آوے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ سچی وفا اور صدق دکھلاوے۔خدمات کے مقام محمود تلاش کرے۔ان باتوں سے انسان منتقی کہلاتا ہے اور جو لوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں۔وہی اصل متقی ہوتے ہیں (یعنی اگر ایک ایک خلق فردا فردا کسی میں ہوں تو اسے متقی نہ کہیں گے جب تک بحیثیت مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں ) اور ایسے ہی شخصوں کے لئے لا خُوفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ہے۔الهدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخه ۱۳ فروری ۱۹۰۳ ء - ملفوظات جلد دوم صفحه ۶۸۰ ) وَإِذْ اَخَذْنَا مِيثَاقَكُم وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ - خُذُوا مَا أَتَيْنَكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔احادیث صحیحہ صاف اور صریح لفظوں میں بتلا رہی ہیں کہ یا جوج ماجوج کا زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ جب قوم یا جوج ماجوج اپنی قوت اور طاقت کے ساتھ تمام قوموں پر غالب آجائے گی اور ان کے ساتھ کسی کو تاب مقابلہ نہیں رہے گی۔تب مسیح موعود کو حکم ہوگا کہ اپنی جماعت کو کوہ طور کی پناہ میں لے آوے یعنی آسمانی نشانوں کے ساتھ اُن کا مقابلہ کرے اور خدا کی زبر دست اور ہیبت ناک عجائبات سے مدد