تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 159
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۹ سورة البقرة يادم اسكن أنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ۔۔۔۔۔اے آدم۔۔۔۔تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے جنت میں یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہو جاؤ۔( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۹۱٬۵۹۰ بقیه حاشیه در حاشیه) شجرہ کی نسبت سوال ہوا کہ وہ کونسا درخت تھا جس کی ممانعت کی گئی تھی۔فرمایا کہ مفسروں نے کئی باتیں لکھی ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ انگور ہوگا۔شراب اس سے پیدا ہوتی ہے اور شراب کی نسبت لکھا ہے رخش من عَمَلِ الشَّيْطن (المائدة : ٩١) یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت کا انگور ایسا ہی ہو کہ بغیر سرا نے گلانے کے اس کے تازہ شیرہ میں نشہ ہوتا ہو جیسے تاڑی کہ ذرا سی دیر کے بعد اس میں نشہ پیدا ہو جاتا ہے۔سوال ہوا کہ آدم کی جنت کہاں تھی؟ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۱٫۳ پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۲) اس کے متعلق فرمایا: ہمارا مذہب یہی ہے کہ زمین میں ہی تھی خدا فرماتا ہے: مِنْهَا خَلَقْنَكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُم ( طه : ۵۶) آدم کی بود و باش آسمان پر یہ بات بالکل غلط ہے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۱٫۳ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۸۲) ص فَازَ لَّهُمَا الشَّيْطَنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُةٌ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَ مَتَاعُ إِلَى حِينٍ کامل یقین والوں کو شیطان چُھو بھی نہیں سکتا۔۔۔۔میرا تو یقین ہے کہ حضرت آدم کی استعداد میں کسی قدر تساہل تھا تب ہی تو شیطان کو وسوسہ کا قابومل گیا۔واللہ اگر اس جگہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سا جو ہر قابل کھڑا کیا جاتا تو شیطان کا کچھ بھی پیش نہ جاتا۔( بدر جلد ۱۲ نمبر ۲ مورخہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۱۲ء صفحه ۲) یہ غلط ہے کہ شیطان خود حوا کے پاس گیا ہو بلکہ جیسا کہ اب چھپ کر آتا ہے ویسا ہی تب بھی چھپ کر گیا تھا کسی آدم کے اندر وہ اپنا خیال بھر دیتا ہے اور وہ اس کا قائم مقام ہو جاتا ہے۔کسی ایسے ہی مخالف دین کے دل میں شیطان نے یہ بات ڈال دی تھی۔اور وہ بہشت جس میں حضرت آدم رہتے تھے وہ بھی زمین پر ہی تھا۔کسی بد نے اُن کے دل میں وسوسہ ڈال دیا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ / مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۱۰) شیطان کے معنے ہیں ہلاک ہونے والا۔یہ لفظ شیط سے نکلا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۲)