تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 160
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 17+ سورة البقرة جود جود شر انگیز ہے یعنی وجود شیطان جس کا مقام ذو العقول کے قسم میں انتہائی نقطہ انخفاض میں واقع ہے اس کا اثر ہر ایک دل کو جو اس سے کچھ نسبت رکھتا ہے شرک کی طرف کھینچتا ہے جس قدر کوئی اس سے مناسبت پیدا کرتا ہے اسی قدر بے ایمانی اور خباثت کے خیال اس کو سو جھتے ہیں یاں تک کہ جس کو مناسبت تام ہو جاتی ہے وہ اسی کے رنگ اور روپ میں آکر پورا پورا شیطان ہو جاتا ہے اور ظلی طور پر ان سب کمالات خباثت کو حاصل کر لیتا ہے جو اصلی شیطان کو حاصل ہیں۔سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۵۱،۲۵۰ حاشیه ) بعض فرقے جو شیطان کے وجود سے منکر ہیں وہ تعجب کریں گے کہ شیطان کیا چیز ہے؟ پس اُن کو یاد رہے کہ انسان کے دل کے ساتھ دو کششیں ہر وقت نوبت به نوبت لگی رہتی ہیں۔ایک کشش خیر کی اور ایک کشش شر کی۔پس جو خیر کی کشش ہے شریعت اسلام اُس کو فرشتہ کی طرف منسوب کرتی ہے۔اور جو شر کی کشش ہے اس کو شریعت اسلام شیطان کی طرف منسوب کرتی ہے۔اور مدعا صرف اس قدر ہے کہ انسانی سرشت میں دو کششیں موجود ہیں۔کبھی انسان نیکی کی طرف جھکتا ہے اور کبھی بدی کی طرف۔ہے۔(لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۷۹) شیطان کو ہمیشہ رات سے غرض ہے دن سے کچھ غرض نہیں کیونکہ وہ پرانا چور ہے جو تاریکی میں قدم رکھتا (کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۵) ( تاریکی تاریکی کو پیدا کرتی ہے اندرونی روشنی اور روشنی کو لاتی ہے اسی واسطے تاریکی کو شیطان سے تشبیہ دی ہے اور روشنی روح القدس سے مشابہہ ہے۔احکام جلد ۵ نمبر ۱۶ مورخه ۳۰ / اپریل ۱۹۰۱ ء صفحه ۴) توریت سے ثابت ہوتا ہے کہ سانپ آدم کے گناہ سے پہلے ہی لعنتی جانور تھا جس نے خدا کی مخالفت کی سوسوال یہ ہے کہ یہ آدم سے پہلے کیوں کر لعنتی ہو گیا۔توریت کا بیان ہے کہ سانپ نے حوا سے باتیں کیں لیکن ظاہر ہے کہ خدا کے قانونِ قدرت میں یہ بات داخل نہیں ہے کہ سانپ انسان سے باتیں کرے سو کچھ شک نہیں کہ سانپ سے مراد شیطان ہے گو نخاش کا لفظ عبرانی میں صرف سانپ پر اطلاق پاتا ہے مگر کچھ شک نہیں کہ جوائم الالسنہ ( عربی ) میں لفظ آیا ہے وہ خناس ہے اور خنّاس کو غیر مرتب طور پر مقلوب کر کے اور خا کا نقطہ اڑا کر اور اس پر تین نقطے ڈال کر معاش بنایا گیا ہے لیکن اب سوال یہ ہے کہ خدا کے قانون قدرت کے رو سے شیطان بھی انسان کے ساتھ باتیں نہیں کرتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ شیطان نے تو اسے خواب میں سانپ کی صورت پر باتیں کیں یا کشف میں جو