تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 158
۱۵۸ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام چار چیزیں ہیں جن کی گنہ ور از کو معلوم کرنا انسان کی طاقت سے بالا تر ہے اوّل۔اللہ جل شانہ، دویم۔روح ، سویم۔ملائکہ، چہارم۔اہیں۔جو شخص ان چہاروں میں سے خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل ہے اور ابلیس اس کے صفات الوہیت پر ایمان رکھتا ہے۔ضرور ہے کہ وہ ہر سہ اشیاء روح و ملائکہ وابلیس پر ایمان لائے۔(الکام، جلد سے نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۳) بہت سے گناہ اخلاقی ہوتے ہیں جیسے غصہ، غضب ، کینہ ، جوش ، ریا۔تکبر ، حسد وغیرہ یہ سب بداخلاقیاں ہیں جو انسان کو جہنم تک پہنچا دیتی ہیں انہی میں سے ایک گناہ جس کا نام تکبر ہے شیطان نے کیا تھا یہ بھی ایک بد خلقی ہی تھی جیسے لکھا ہے۔آبی وَ اسْتَكْبَر (البقرة :۳۵) اور پھر اس کا نتیجہ کیا ہوا وہ مردود خلائق ٹھہرا۔اور ہمیشہ کے لیے لعنتی ہوا مگر یا درکھو کہ یہ تکبر صرف شیطان ہی میں نہیں ہے بلکہ بہت ہیں جو اپنے غریب بھائیوں پر تکبر کرتے ہیں اور اس طرح پر بہت سی نیکیوں سے محروم رہ جاتے ہیں اور یہ تکبیر کئی طرح پر ہوتا ہے کبھی دولت کے سبب سے، کبھی علم کے سبب سے، کبھی حسن کے سبب سے اور کبھی نسب کے سبب سے ،غرض مختلف صورتوں سے تکبر کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ وہی محرومی ہے۔(الحکم جلد ۸ نمبر ۱۱ مورخہ ۱۷ار مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۳) وَقُلْنَا يَادَمُ اسْكُنُ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُهَا وَلَا تَقْرَبَا هُذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّلِمِينَ حوا پسلی ہی سے بنائی گئی ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان لاتے ہیں۔ہاں اگر کوئی کہے کہ پھر ہماری پہلی نہ ہوتی تو میں کہتا ہوں کہ یہ قیاس ، قیاس مع الفارق ہے اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر قیاس نہ کرو۔میں اگر خدا تعالیٰ کو قادر اور عظیم الشان نہ دیکھتا تو یہ دُعاؤں کی قبولیت کے نمونے جو دیکھتا ہوں نظر نہ آتے۔۔۔۔۔پس یہ کہنا کہ آدم علیہ السلام کی پہلی نکال لی تھی اور حوا اس پہلی سے بنی تو پھر پہلی کہاں سے آ گئی سخت بیوقوفی اور اللہ تعالیٰ کے حضور سوء ادبی ہے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۴۴ مورخه ۱۰ / دسمبر ۱۹۰۰ ء صفحه ۲) انبیاء علیہم السلام کے گلہ کرنے سے بھی انسان کافر ہو جاتا ہے۔چونکہ وہ ان تعلقات سے محض نا آشنا ہوتا ہے جو انبیاء ورسل اور اللہ تعالیٰ میں ہوتے ہیں۔اس لئے کسی ایسے امر کو جو ہماری سمجھ اور دانش سے بالاتر اور بالا تر ہے اپنی عقل کے پیمانہ سے ناپنا صریح حماقت ہے۔مثلاً آدم علیہ السلام کا گلہ کرنے لگے کہ انہوں نے درخت ممنوع کا پھل کھایا۔یا عبس وتوثی (عبس:۲) کو لے بیٹھے۔ایسی حرکت آداب الرسل کے خلاف ہے اور کفر کی حد تک پہنچادیتی ہے۔احکم جلد ۸ نمبر ۱۴، ۱۵ مورخه ۱/۳۰ پریل و یکم مئی ۱۹۰۴ء صفحه ۲)