تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 157
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة البقرة جھکا اور اس طرح پر دونوں حقوں کو جو حق اللہ اور حق العباد ہے ادا کر دیا۔اور دونوں قسم کا حسن روحانی ظاہر کیا۔اور دونوں قوسوں میں وتر کی طرح ہو گیا۔یعنی دونوں قوسوں میں جو ایک درمیانی خط کی طرح ہو اور اس طرح اس کا وجود واقع ہوا جیسے یہ۔اس حسن کو نا پاک طبع اور اندھے لوگوں نے نہ دیکھا جیسا خالق مخلوق قوس قور درمیانی خط آنحضرت (199: کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ (الاعراف: ۱۹۹) یعنی تیری طرف وہ دیکھتے ہیں مگر تو انہیں دکھائی نہیں دیتا۔آخر وہ سب اندھے ہلاک ہو گئے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۱۸ تا ۲۲۱) آدم سے مراد کامل انسان ہے جب انسان کامل آدم بن جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم سجدہ (اطاعت ) کا دیتا ہے اور اس کے ہر ایک کام کو خدا تعالیٰ فرشتوں کے ذریعہ سے سرانجام کرتا ہے لیکن آدم کامل بننے کے لئے ضروری ہے کہ انسان کا خدا سے سچا اور پکا تعلق ہو جب انسان ہر ایک حرکت اور سکون حکم الہی کے نیچے ہو کر کرتا ہے تو انسان خدا کا ہو جاتا ہے تب خدا انسان کا والی وارث ہو جاتا ہے اور پھر اس پر کوئی مخالفت سے دست اندازی نہیں کر سکتا۔لیکن وہ آدمی جو احکام الہی کی پروا نہیں کرتا خدا بھی اُس کی پروا نہیں کرتا ۰۰۰۰۰۰۰ آدم علیہ السلام کامل انسان تھے فرشتوں کو سجدہ ( اطاعت ) کا حکم ہوا۔اسی طرح اگر ہم میں ہر ایک آدم بنے تو وہ بھی فرشتوں سے سجدہ کا مستحق ہے۔انام جلد ۹ نمبر ۵ مورخه ۱۰ارفروری ۱۹۰۵ صفحه ۴) اہل عرب اس قسم کے استثنا کرتے ہیں صرف و نحو میں بھی اگر دیکھا جاوے تو ایسے استثناء بکثرت ہوا کرتے ہیں اور ایسی نظیریں موجود ہیں جیسے کہا جاوے کہ میرے پاس ساری قوم آئی مگر گدھا۔اس سے یہ سمجھنا کہ ساری کی ساری قوم جنس حمار میں سے تھی غلط ہے تكَانَ مِنَ الْجِن کے بھی یہ معنے ہوئے کہ وہ فقط ابلیس ہی قوم جن میں سے تھا۔ملائکہ میں سے نہیں تھا ملائک ایک الگ پاک جنس ہے اور شیطان الگ۔ملائکہ اور ابلیس کار از ایسا مخفی در مخفی ہے کہ بجز آمَنَا وَ صَدَّقْنَا کے انسان کو چارہ نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو اقتدار و توفیق نہیں دی مگر وسوسہ اندازی میں وہ محترک ہے جیسے ملائکہ پاک تحریکات کے محرک ہیں ویسے ہی شیطان ناپاک جذبات کا محرک ہے۔ملائکہ کی منشاء ہے کہ انسان پاکیزہ ہو مطہر ہو اور اُس کے اخلاق عمدہ ہوں اور اس کے بالمقابل شیطان چاہتا ہے کہ انسان گندہ اور ناپاک ہو۔اصل بات یہ ہے کہ قانونِ الہی ملائکہ وابلیس کی تحریکات کا دوش بدوش چلتا ہے۔لیکن آخر کا ر ارادہ الہی غالب آجاتا ہے۔گویا پس پردہ ایک جنگ ہے جو خود بخود جاری رہ کر آخر قادر و مقتدر حق کا غلبہ ہو جاتا ہے اور باطل کی شکست۔