تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 149
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۹ سورة البقرة وَإِنْ قِيْلَ إِنَّ الْمَشْهُورَ بَيْنَ الْعَامَّةِ مِن اور اگر کوئی کہے کہ عوام مسلمانوں میں تو یہ مشہور اَهْلِ الْمِلَّةِ۔إنّ اللهَ عَلَّمَ آدَمَ جَمِيعَ اللُّغَاتِ ہے کہ خدا تعالیٰ نے آدم کو تمام بولیاں سکھا دی تھیں الْمُخْتَلِفَةِ فَكَانَ يَنْطِقُ بِكُلِ لُغَتِ مِّن اور وہ ہر یک بولی عربی فارسی وغیرہ بولتا تھا پس اس کا الْعَرَبِيَّةِ وَالْفَارِسِيَّةِ وَغَيْرِهَا مِنَ الْأَلْسِنَةِ جواب یہ ہے کہ یہ خطا ہے اور اس کی طرف کوئی عقلمند فَجَوَابه أن هذا خطأ نَشَأَ مِنَ الْغَفْلَةِ لا توجہ نہیں کرے گا کیونکہ یہ بدیہی الثبوت امر کے يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الخُبْرَةِ بِمَا خَالَفَ مخالف ہے اور بے خبروں کا گمان باطل ہے بلکہ پہلی اَمْرًا ثَبَتَ بِالْبَدَاهَةِ وَمَا هُوَ إِلَّا زَعْمُ زبان اور پہلے زمانہ کی بولی صرف عربی ہے اور اس کا الْغَافِلِينَ بَلِ الْعَرَبِيَّةُ هيَ اللَّسَانُ مِن غیر اس کا مال موروثی ہے۔یا کوئی چھوٹا سا موتی اس مُسْتَأنِفِ الْآيَامِ وَ مُسْتَظرِفُهَا وَلَيْسَ کے موتیوں میں سے ہے اور تو جانتا ہے کہ قرآن اور غَيْرُهَا إِلَّا كَمَرْجَانٍ مِنْ دُرَرٍ صَدَفِهَا وَانتَ تورات نے جو کچھ ہم نے کہا وہ ثابت کر دیا ہے کیا تَعْلَمُ اَنَّ الْقُرْآنَ وَ التَّوْرَاتَ قَدْ أَثْبَتَا مَا تجھے معلوم نہیں کہ توریت کتاب پیدائش گیارھویں قُلْنَا وَالْمَلا الإثبات ألا تَعْلَمُ مَا جَاءَ في باب میں لکھا ہے کہ ابتدا میں تمام زمین کی بولی ایک الْأَصْحَاحِ الْحَادِى الْعَشَرَ مِنَ التَّكْوِينِ فَإِنَّهُ تھی پھر جب وہ عراق عرب میں داخل ہوئی۔تو بابل شَهِدَ أَنَّ اللَّسَان كَانَتْ وَاحِدَةً فِي الْأَرْضِينَ شہر میں بولیوں میں اختلاف پڑا اور قرآن کا بیان تو تو ثُمَّ الخَتَلَفُوا بِبَابِلَ مُعْرِفِينَ وَ آمَا الْقُرْآن سن چکا۔پس تحقیق کرنے والوں کی طرح سوچ۔پھر فَقَدْ سَبَقَ فِيهِ الْبَيَانُ فَفَكِّرُ كَالْمُحَقِّقِینَ۔اس جگہ ایک اور طریق ثبوت حق اور معرفت کے ثُمَّ هُهُنَا طَرِيق أَخَرُ لِطُلَّابِ الْحَقِّ وَالْمَعْرِفَةِ طالبوں کے لئے ہے اور وہ یہ ہے کہ جب ہم اللہ وَهُوَ إِنَّا إِذَا نَظَرْنَا فِي سُنَنِ اللهِ ذِی الْجَلَالِ وَ ذو الجلال کی سنتوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم اس کی الْحِكْمَةِ۔فَوَجَدْنَا نِظَامَ خَلْقِهِ عَلى طَرِيقِ پیدائش کا نظام وحدت کے طور پر پاتے ہیں اور یہ وہ الْوَحْدَةِ وَ ذَلِكَ آمَرُ اخْتَارَهُ اللهُ لِهِدَايَةِ امر ہے جس کو خدا تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لئے الْبَرِيَّةِ لِيَكُونَ عَلى أحْدِيَّةِ أَحَدٍ مِنَ الْآدِلَّةِ وَ اختیار کیا ہے تا کہ اس کی وحدانیت پر دلیل ہو۔اور لِيّدُل على أنّهُ الْخَالِقُ الْوَاحِدُ لا شريك له في اس دلیل پر دلالت کرے کہ وہ اکیلا پیدا کرنے والا السَّمَاءِ وَالْأَرْضِينَ فَالَّذِي خَلَقَ الْإِنْسَانَ واحد لاشریک ہے کوئی اس کا شریک زمین و آسمان