تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 148
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۸ سورة البقرة جس کو دنیا نہیں جانتی۔یہ جواب اسی قسم کا ہے جیسا کہ آدم کی نسبت قرآن شریف میں ہے قَالَ إِلى أَعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُونَ بلکہ یہی آیتیں بعینہ اگر چہ براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں نہیں مگر دوسری کتابوں میں میری نسبت بھی وحی الہی ہو کر شائع ہو چکی ہیں۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۱۲، ۱۱۳) وَ عَلَمَ آدَمَ الْإِسْمَاءَ كُهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَيكَةِ فَقَالَ الْبُونِي بِأَسْمَاءِ هولاء إن كُنْتُم صُدِقِينَ (٣٢) لا وَ عَلَمَ آدَمَ الأَسْمَاء كُلَهَا أَى عَلَمَهُ وَعَلَّمَ أَدَمَ الْأَسْمَاء كُلها یعنی آدم کو اشیاء کے تمام حَقَائِقَ الْأَشْيَاءِ كُلَّهَا وَجَعَلَهُ عَالَمًا حقائق کا علم عطا فرمایا اور اُسے ایک مجمل عالم بنایا جو عالمین کا مثیل تھا۔( ترجمہ از مرتب ) تجملا مثيل الْعَالَمِينَ۔(سرالخلافہ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۷۴) w قَالَ عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاء فَهَذَا کہا ہے کہ خدا نے آدم کو نام سکھائے پس یہ سکھلانا التَّعْلِيمُ يَدُلُّ عَلى أَشْيَاء مِنْهَا انه تان کئی باتوں پر دلالت کرتا ہے ان میں سے ایک یہ کہ خدا مُعَلِّمَ الْكَلِمَاتِ يَتَوَسطِ الْمُسْبِيَاتِ۔و تعالی نے کلمات کو مسمیات کے ذریعہ سے سکھلایا اور نَعْنِى بِالْمُسْمِيَاتِ كُلَّمَا يُمْكِنُ بَيَانُه مسمیات سے مُراد ہمارے ایسے امور ہیں جن کا بیان کرنا بِالْإِشَارَاتِ فِعْلًا كَانَ أَوْ مِنْ أَسْمَاءِ اشارات کے ذریعہ سے ممکن ہے خواہ وہ فعل ہوں یا اسماء الْمَخْلُوقَاتِ وَمِنْهَا أَنَّهُ كَانَ مُعَلَّمَ مخلوقات میں سے ہوں اور پھر دوسرا امر یہ ہے کہ حقائق حَقَايِقَ الْأَشْيَاءِ وَخَوَاضِهَا الْمَكْتُومَةِ اشیاء اور ان کے جو چھپے ہوئے خواص ہیں وہ زبان عربی الْمَخْرُونَةِ في حَيْرِ الْاخْتِفَاءِ بِلُغَةِ عَربی میں سکھلائے گئے۔اور اگر تو یہ بات کہے کہ محو یوں نے عَرَبِي مُّبِيْنٍ وَإِنْ قُلْتَ إِنَّ التَّعْوِنِينَ خَصَّصوا لفظ اسم کو اسماء مخصوصہ سے خاص کیا ہے۔یعنی وہ اسماء جن لَفْظَ الْإِسْمِ بِالْأَسْمَاءِ الْمَعْصُوصَةِ الَّتِنی کے واسطے معانی ہیں اور تین زمانوں میں سے کسی سے لَهَا مَعَانِي وَلَا تَقْتَرِنُ بِأَحَدٍ مِنَ الْأَزْمِنَةِ اقتران (نہیں) رکھتے ہیں پس جواب اس کا یہ ہے کہ یہ الثَّلَاثَةِ فَجَوَابُهُ أَنَّ ذَالِكَ اصْطِلاح لِهذِهِ اس فرقہ کی اصطلاح ہے اور جب ہم حقیقی طور پر نظر کریں الْفِرْقَةِ وَلَا اِعْتِبَارَ بِهِ عِندَ نَظرِ الْحَقِيقَةِ تو یہ اصطلاح ساقط الاعتبار ہوگی پس دیکھنے والوں کی فَانظُرْ كَالْمُبْصِرِينَ۔طرح سوچ۔