تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 150
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۵۰ سورة البقرة مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ كَيْفَ تُعْذِی اِلَيْهِ | میں نہیں۔پس جس نے انسان کونفسِ واحد سے پیدا کیا كَثْرَةٌ غَيْرُ مُرتَّبَةٍ وَلُغَاتٌ مُتَفَرِّقَةٌ غَيْرُ کیونکر اس کی طرف ایک ایسی کثرت منسوب کی جائے جو مُنتَظِمَةٍ أَلَا تَعْلَمُ أَنَّهُ رَاعَى الْوَحْدَةً في غير مرتب ہے اور کیونکر ایسی زبانیں اس کی طرف سے سمجھی صُحُفِهِ كُلِّ كَثْرَةٍ وَأَشَارَ إِلَيْهِ فِي صُحُفِ مُطَهَّرَةٍ جائیں جو غير منتظم ہیں۔کیا تجھے معلوم نہیں کہ اس نے وَ كِتَابِ اِمَامِ الْعَارِفِينَ وَ آبَان في صحفه هر یک کثرت میں وحدت کی رعایت رکھی ہے اور اپنی ہر الْغَرَّاءِ انّه خَلَقَ كُلَّ شَىءٍ قِینَ الْمَاءِ پاک کلام میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے جو عارفوں کی فَانظُرُ إلى سُنَّةِ حَضْرَةِ الْكِبْرِيَاء كَيْفَ رَدَّ امام ہے اور اس نے اپنی کتاب روشن میں بیان فرمایا ہے الْكَثْرَةَ إِلى وَحْدَةِ الْأَشْيَاءِ وَ جَعَلَ الْمَاءَ کہ اس نے ہر یک چیز کو پانی سے ہی پیدا کیا ہے۔پس أم الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ فَفَكِّرُ العقلاء خدا تعالیٰ کی سنت کی طرف دیکھ کیوں کر اس نے کثرت کو وحدت كَالْعُقَلَاءِ فَإِنَّهُ عُنْوَانُ الْاهْتِدَاءِ وَ لَا تَسْتَعْجِل کی طرف رد کیا ہے اور پانی کو زمین اور آسمان کی ماں ٹھہرایا كَالْجَاهِلِينَ وَ إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ دَلیل واضح ہے پس عقلمندوں کی طرح سوچ کہ یہ ہدایت پانے کی علامت عَلَى سُنَّةِ خَالِقِ الرَّقِيعِ وَالْغَيْرَاءِ وَفِيهَا ہے اور جاہل مت بن۔اور یہ آیت خالق زمین و آسمان کی تَبْصِرَةٌ لِأَهْلِ الْأَنْطَارِ وَالْأَرَاءِ وَاللهُ وثر سنت پر دلیل واضح ہے اور اس میں اہل نظر کے لئے بصیرت تُحِبُّ الوثرَ يَا مَعْشَرَ الطلباء کی راہ ہے اور خدا تعالیٰ وتر ہے وتر کو دوست رکھتا ہے۔هُوَ الَّذِي نَوَّرَ مِنْ نُورٍ وَاحِدٍ نُجُومَ وہی ہے جس نے ایک نور سے تمام ستاروں کو بنایا اور السَّمَاءِ وَ خَلَقَ نُفُوسًا مُتَشَابِبَةٌ عَلَى زمین پر تمام نفوس متشابہ پیدا کئے اور انسان کو ایک عالم الْغَبْرَاءِ وَجَعَلَ الْإِنْسَانَ عَالِمًا جَامِعَ جميع حقائق اشیاء کا جامع بنایا پس اگر مخلوقات کا نظام جَمِيعَ حَقَائِقَ الْأَشْيَاءِ فَلَوْلَمْ يَكُن وحدت پر مبنی نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ کی پیدائش میں یہ نِظَامُ الْخَلْقِ مَبْنِيًّا عَلَى الْوَحْدَةِ لَهَا مشابہت نہ پائی جاتی اور مخلوق متفرق چیزوں کی طرح وُجِدَتْ في خَلْقِ اللهِ وُجُودُ هذه ہوتی بلکہ اگر نظام وحدانی نہ ہوتا تو حکمت باطل ہو جاتی اور الْمُقَابَهَةِ، وَلَكَانَ خَلْقُ الله سر روحانی ضائع ہو جاتا اور رہبانی راہ بند ہو جاتی اور كَالْمُتَفَرِقِينَ، بَلْ لَوْ لَمْ يَكُنِ النظام سالکوں کا امر مشکل ہو جاتا۔پس تجھے کیا ہو گیا کہ تو اس الْوَحْدَانِي لَبَطَلَتِ الْحِكْمُ وَضَاعَ السّير وحدت کو نہیں سمجھتا جو اس یگانہ پر دلالت کرتی ہے اور وہی