تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 147

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۷ سورة البقرة میں حج کرنے کے واسطے گیا تو وہاں مجھے ایک شخص ملا جس کو میں نے خیال کیا کہ وہ آدم ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تو ہی آدم ہے؟ اس پر اُس نے جواب دیا کہ تم کون سے آدم کے متعلق سوال کرتے ہو؟ آدم تو ہزاروں گزرچکے ہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵ مورخه ۳۰ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۵) اتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا فرشتوں نے کشفی رنگ میں دیکھا آدم کی اولا د نے جو فساد ڈالنا تھا۔الحکم جلد ۷ ۴ نمبر ۱۹ تا ۲۲ مورخه ۲۱ تا ۲۸ رمئی و۷ تا ۱۴ جون ۱۹۴۳ صفحه ۱۵) اس جگہ یہ بھی یادرکھنا ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسی ہی نہیں رکھا بلکہ ابتداء سے انتہاء تک جس قدر انبیاء علیہم السلام کے نام تھے وہ سب میرے نام رکھ دیئے ہیں۔چنانچہ براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میر انام آدم رکھا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ أَدَمَ دیکھو براہین احمدیہ حصص سابقہ صفحہ ۴۹۲ پھر دوسری جگہ فرماتا ہے سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا خَلَقَ ادَمَ فأكرمه۔دیکھو براہین احمدیہ حصص سابقہ صفحہ ۵۰۴ دونوں فقروں کے معنے یہ ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو میں نے آدم کو پیدا کیا یعنی اس عاجز کو۔پھر فرمایا پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو ایک ہی رات میں تمام سیر کرا دیا۔پیدا کیا اس آدم کو۔پھر اس کو بزرگی دی۔ایک ہی رات میں سیر کرانے سے مقصد یہ ہے کہ اس کی تمام تکمیل ایک ہی رات میں کر دی اور صرف چار پہر میں اس کے سلوک کو کمال تک پہنچایا اور خدا نے جو میرا نام آدم رکھا اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں عام طور پر بنی آدم کی روحانیت پر موت آگئی تھی پس خدا نے نئی زندگی کے سلسلہ کا مجھے آدم ٹھہرایا اور اس مختصر فقرہ میں یہ پیشگوئی پوشیدہ ہے کہ جیسا کہ آدم کی نسل تمام دنیا میں پھیل گئی ایسا ہی میری یہ روحانی نسل اور نیز ظاہری نسل بھی تمام دنیا میں پھیلے گی۔اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ فرشتوں نے آدم کے خلیفہ بنانے پر اعتراض کیا اور خدا تعالیٰ نے اس اعتراض کو رڈ کر کے کہا کہ آدم کے حالات جو مجھے معلوم ہیں وہ تمہیں معلوم نہیں۔یہی واقعہ میرے پر صادق آتا ہے کیونکہ براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں یہ وحی الہی درج ہے کہ لوگ میری نسبت ایسے ہی اعتراض کریں گے جیسے کہ آدم علیہ السلام پر کئے گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوا أَهذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ - جَاهِلٌ اَوْ مَجنُونَ۔یعنی مجھے لوگ ہنسی کی جگہ بنالیں گے اور کہیں گے کہ کیا یہی شخص خدا نے مبعوث فرمایا ہے۔یہ تو جاہل ہے یا دیوانہ ہے۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ انہیں حصص براہین احمدیہ میں فرماتا ہے: اَنتَ مِل يَمَنزِلَةٍ لَّا يَعْلَمُهَا الْخَلْقُ۔یعنی تیرا میرے نزدیک وہ مقام ہے