تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 114
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۴ سورة البقرة کشمیر میں جاوے اور وہاں کی ناشپاتیاں کھا کر کہے کہ یہ تو وہی ناشپاتیاں ہیں جو پنجاب میں کھائی تھیں تو یہ صریح ان ناشپاتیوں کی حقارت ہے پس اگر بہشت کی نعماء کی بھی یہی مثال ہے تو یہ خوشی نہیں بلکہ ان سے بیزاری ہے اس لئے اس کا یہ مفہوم اور مطلب نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ بہشتی لوگ جو اس دنیا میں بڑے عابد اور زاہد تھے۔جب وہ اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کے مستقلات سے لطف اُٹھا ئیں گے تو ان کو وہ ایمانی لذت آ جائے گی اور ان مجاہدات اور اعمال صالحہ کا مزا آ جائے گا جو اس عالم میں انہوں نے کئے تھے اس لئے وہ کہیں گے هذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ - غرض جس قدر قرآن شریف کو کوئی شخص تد تیر اور غور سے پڑھے گا اسی قدر وہ اس حقیقت کو سمجھ لے گا کہ ان لذات کا تمثیلی رنگ میں فائدہ اُٹھائے گا۔محبت الہی کی لذات ہیں۔لذت کا لفظ جو مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے وہ جسمانی لذت کے مفہوم سے ہزاروں درجہ زیادہ مفہوم روحانی لذت میں رکھتا ہے۔اگر اس محبت کی لذت میں غیر معمولی سیری اور سیرابی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کے محبت جسمانی لذات کو ترک کیوں کریں یہاں تک کہ بعض اس قسم کے بھی ہو گزرے ہیں جنہوں نے سلطنت تک کو چھوڑ دیا۔چنانچہ ابراہیم ادھم نے سلطنت چھوڑ دی اور انبیاء علیہم السلام نے ہزاروں لاکھوں مصائب کو برداشت کیا۔اگر وہ لذت اور ذوق اس محبت الہی کی تہہ میں نہ تھا جو انہیں کشاں کشاں لئے جاتا تھا تو پھر وہ کیا بات تھی کہ اس قدر مصائب کو انہوں نے خوشی کے ساتھ اُٹھا لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس درجہ میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں اس لئے آپ کی زندگی کا نمونہ بھی سب سے افضل و اعلیٰ ہے۔کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دنیا کی ساری نعمتیں اور عزتیں پیش کیں ، مال و دولت سلطنت عورتیں اور کہا کہ آپ ہمارے بتوں کی مذمت نہ کریں اور یہ توحید کا مذہب پیش نہ کریں اس خیال کو جانے دیں۔وہ دنیا دار تھے ان کی نظر دنیا کی فانی اور بے حقیقت لذتوں سے پرے نہ جاسکتی تھی انہوں نے سمجھا کہ یہ تبلیغ انہیں اغراض کے لئے ہوگی مگر آپ نے ان کی ان ساری پیش کردہ باتوں کو رڈ کر دیا اور کہا کہ اگر میرے دائیں بائیں آفتاب اور ماہتاب بھی لا کر رکھ دو تب بھی میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔پھر اس کے بالمقابل انہوں نے آپ کو وہ تکالیف پہنچائیں جن کا نمونہ کسی دوسرے شخص کی تکالیف میں نظر نہیں آتا لیکن آپ نے ان تکالیف کو بڑی لذت اور سرور سے منظور کیا مگر اس راہ کو نہ چھوڑا۔اب اگر کوئی لذت اور ذوق نہ تھا تو پھر کیا وجہ تھی جو ان مصائب مشکلات کو برداشت کیا ؟ وہ وہی لذت تھی جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں ملتی ہے اور جس کی مثال اور نمونہ کوئی پیش نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔بہشت کی