تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 115

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۵ سورة البقرة لذات میں ایک اور بھی خوبی ہے جو دنیا کی لذتوں میں اور جسمانی لذتوں میں نہیں ہے مثلاً انسان روٹی کھاتا ہے تو دوسری لذتیں اُسے یاد نہیں رہتی ہیں۔مگر بہشت کی لذات نہ صرف جسم ہی کے لئے ہوں گی بلکہ روح کے لئے بھی لذت بخش ہوں گی دونوں لذتیں اس میں اکٹھی ہوں گی اور پھر اس میں کوئی کثافت نہ ہوگی اور سب سے بڑھ کر جو لذت ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔مگر دیدار الہی کے لئے یہ ضروری ہے کہ یہاں ہی سے تیاری ہو اور اس کے دیکھنے کے لئے یہاں ہی سے انسان آنکھیں لے جاوے۔جو شخص یہاں تیاری کر کے نہ جاوے گا۔وہ وہاں محروم رہے گا۔(احکام جلد 4 نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۱۰،۹) اِنَّ اللهَ لا يَسْتَحْى أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۖ فَلَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَ اَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَا ذَا أَرَادَ اللهُ بِهَذَا مَثَلًا يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِى بِهِ كَثِيرًا ۖ وَمَا يُضِلُّ بِهَ إِلَّا ۲۷ الفسقين في فرماتا ہے يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِى بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفُسِقِینَ یعنی بہتوں کو اس کلام سے گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو یہ ہدایت دیتا ہے۔مگر گمراہ ان کو کرتا ہے جو گمراہ ہونے کے کام کرتے ہیں اور فاسقانہ چالیں چلتے ہیں یعنی انسان اپنے ہی افعال کا نتیجہ خدا تعالیٰ سے پالیتا ہے جیسے کہ ایک شخص آفتاب کے سامنے کی کھڑ کی جب کھول دیتا ہے تو یہ ایک قدرتی اور فطرتی امر ہے کہ آفتاب کی روشنی اور اس کی کرنیں اس کے منہ پر پڑتی ہیں لیکن جب وہ اس کھڑکی کو بند کر دیتا ہے تو اپنے ہی فعل سے اپنے لئے اندھیرا پیدا کر لیتا ہے چونکہ خدا تعالیٰ علت العلل ہے بوجہ اپنے علت العلل ہونے کے ان دونوں فعلوں کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے لیکن اپنے پاک کلام میں اس نے بار ہا تصریح سے فرما دیا ہے کہ جو ضلالت کے اثر کسی کے دل میں پڑتے ہیں وہ اسی کی بد اعمالی کا نتیجہ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر کوئی ظلم نہیں کرتا۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۳۳، ۲۳۴) خدائے تعالیٰ کی پیشگوئیوں میں بعض امور کا اخفا اور بعض کا اظہار ہوتا ہے اور ایسا ہونا شاذ و نادر ہے کہ من کل الوجوہ اظہار ہی ہو کیونکہ پیشگوئیوں میں حضرت باری تعالیٰ کے ارادہ میں ایک قسم کی خلق اللہ کی آزمائش بھی منظور ہوتی ہے اور اکثر پیشگوئیاں اس آیت کا مصداق ہوتی ہیں کہ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِى