تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 113
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۳ سورة البقرة ان باغوں کے وارث ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو باغ کے ساتھ مشابہت دی جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔اس آیت میں بہشت کی حقیقت اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے گویا جو رشتہ نہروں کو باغ کے ساتھ ہے وہی تعلق اور رشتہ اعمال کا ایمان کے ساتھ ہوتا ہے اور جس طرح پر کوئی باغ یا درخت بغیر پانی کے سرسبز نہیں رہ سکتا اسی طرح پر کوئی ایمان بغیر اعمال صالحہ کے زندہ اور قائم نہیں رہ سکتا۔اگر ایمان ہو اور اعمال صالحہ نہ ہوں تو ایمان بیچ ہے اور اگر اعمال ہوں اور ایمان نہ ہو تو وہ اعمال ریا کاری ہیں۔پس قرآن شریف نے جو بہشت پیش کیا ہے اس کی حقیقت اور فلاسفی یہی ہے کہ وہ اس دنیا کے ایمان اور اعمال کا ایک ظل ہے اور ہر شخص کی بہشت اس کے اپنے اعمال اور ایمان سے شروع ہوتی ہے اور اس دنیا میں ہی اس کی لذت محسوس ہونے لگتی ہے اور پوشیدہ طور پر ایمان اور اعمال کے باغ اور نہریں نظر آتی ہیں لیکن عالم آخرت میں یہی باغ کھلے طور پر محسوس ہوں گے اور ان کا ایک خارجی وجود نظر آ جائے گا۔قرآن شریف سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان کی آبپاشی اعمال صالحہ سے ہوتی ہے بغیر اس کے وہ خشک ہو جاتا ہے۔پس یہاں دو باتیں بیان کی ہیں ایک یہ کہ وہ بہشت باغ ہے دوسرا ان درختوں کی نہروں سے آبپاشی ہوتی ہے۔قرآن شریف کو پڑھو اور اوّل سے آخر تک اس پر غور کرو تب اس کا مزہ آئے گا کہ حقیقت کیا ہے؟ ہم مجاز اور استعارہ ہرگز پیش نہیں کرتے بلکہ یہ حقیقت الا مر ہے۔وہ خدا تعالیٰ جس نے عدم سے انسان کو بنایا ہے اور جو خلق جدید پر قادر ہے وہ یقیناً انسان کے ایمان کو اشجار سے منتقل کر دے گا اور اعمال کو انہار سے متمثل کرے گا اور واقعی طور پر دکھا دے گا۔یعنی ان کا وجود فی الخارج بھی نظر آئے گا۔اس کی مختصری مثال یوں بھی سمجھ میں آسکتی ہے کہ جیسے انسان خواب میں عمدہ اور شیریں پھل کھاتا ہے اور ٹھنڈے اور خوشگوار پانی پیتا ہے اور فی الواقع وہ پھل اور آب سرد ہوتا ہے اس وقت اس کے ذہن میں کوئی دوسرا امر نہیں ہوتا۔پھلوں کو کھا کر سیری ہوتی اور پانی پی کر فی الواقعہ پیاس دور ہوتی ہے لیکن جب اُٹھتا ہے تو نہ ان پھلوں کا کوئی وجود ہوتا ہے۔اور نہ اس پانی کا۔اسی طرح پر جیسے اس حالت میں اللہ تعالیٰ ان اشیاء کا ایک وجود پیدا کر دیتا ہے عالم آخرت میں بھی ایمان اور اعمال صالحہ کو اُس صورت میں منتقل کر دیا جائے گا۔اسی لئے فرمایا ہے ھذا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأتُوا بِهِ مُتَشَابِها۔اس کے اگر یہ معنے کریں کہ وہ جنتی جب ان پھلوں اور میووں کو کھا ئیں گے تو یہ کہیں گے کہ یہ وہ پھل اور خربوزے یا تربوز یا انار ہیں جو ہم نے دنیا میں کھائے تھے تو یہ ٹھیک نہیں کیونکہ اس طرح پر تو وہ لذت بخش چیز نہیں ہو سکتے اور نعماء جنت کی حقارت ہے اگر کوئی شخص مثلاً