تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 112
۱۱۲ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام کی نماز یں اللہ تعالیٰ کے واسطے ہرگز نہیں ہیں اور وہ زمین سے ایک بالشت بھی او پر نہیں جاتی ہیں کیونکہ ان میں اخلاص کی روح نہیں اور روحانیت سے خالی ہیں۔الحکم جلد ۸ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۲) عملِ صالحہ ہماری اپنی تجویز اور قرارداد سے نہیں ہو سکتا۔اصل میں اعمالِ صالحہ وہ ہیں جس میں کسی نوع کا کوئی فساد نہ ہو کیونکہ صالح فساد کی ضد ہے۔جیسے غذا طیب اُس وقت ہوتی ہے کہ وہ نہ کچھی ہو نہ سڑی ہوئی ہو اور نہ کسی ادنی درجہ کی جنس کی ہو بلکہ ایسی ہو جو فو را جزو بدن ہو جانے والی ہو۔اسی طرح پر ضروری ہے کہ عمل صالح میں بھی کسی قسم کا فساد نہ ہو یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق ہو۔اور پھر نہ اس میں کسی قسم کا کسل ہو نہ عجب ہو نہ ریا ہو نہ وہ اپنی تجویز سے ہو۔جب ایسا عمل ہو تو وہ عمل صالح کہلاتا ہے اور یہ کبریت احمر ہے۔(احکام جلد ۸ نمبر ۱۴، ۱۵ مورخه ۱/۳۰ پریل ۱۰۶ مئی ۱۹۰۲ صفحه ۱) ایسا ہی قرآن شریف کے دوسرے مقامات میں بھی بہشتیوں کے ہمیشہ بہشت میں رہنے کا جابجا ذ کر ہے اور سارا قرآن شریف اس سے بھرا پڑا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے: وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خلِدُونَ اور اولبِكَ اَصْحَبُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (البقرة : ۸۳ ) وغیرہ وغیرہ۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۱) فلاح آخرت بجز اعمال صالحہ کے نہیں اور اعمال صالحہ وہ ہوں جو خلاف نفس اور مشقت سے ادا کئے جائیں اور عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ دل سے جس کام کے لئے معصم عزم کیا جاوے اس کے انجام کے لئے طاقت مل جاتی ہے۔سو مصمم عزم اور عہد واثق سے اعمال کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔( مکتوبات جلد ۵ نمبر ۵ صفحه ۶۰ مکتوب نمبر ۱۶ بنام حضرت منشی ظفر احمد صاحب) یہ جو لکھا ہے کہ بہشت میں دودھ اور شہد کی نہریں ہوں گی تو اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہاں گائیوں کا ایک گلہ ہوگا اور بہت سارے گوالے ہوں گے جو دودھ دوہ ، دوہ کر ایک نہر میں ڈالتے رہیں گے یا بہت سے چھتے شہد کی مکھیوں کے ہوں گے اور پھر ان کا شہد جمع کر کے نہروں میں گرایا جاوے گا یہ مطلب نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جو مجھ پر ظاہر کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ بات نہ ہوگی اگر یہی خربوزہ اور تربوز یا انار ہوں گے تو پھر بات ہی کیا ہوئی کافر بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے یہاں اس دنیا میں کھا لئے تم نے آگے جا کر کھائے۔اس کی حقیقت جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھولی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن شریف میں فرمایا ہے وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصُّلِحَتِ اَنَّ لَهُمْ جَنَّتِ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهرُ یعنی جو لوگ ایمان لاتے اور اچھے عمل بجالاتے ہیں وہ