تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 99

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۹ سورة البقرة پڑھتا ہے کہ جن میں حقائق و معارف ہیں۔انشاء والے جانتے ہیں کہ انشاء پردازی میں پاکیزہ تعلیم اور اخلاقِ فاضلہ کوملحوظ رکھنا بہت ہی مشکل ہے اور پھر ایسی مؤثر اور جاذب تعلیم دینا جو صفات رذیلہ کو دُور کر کے بھی دکھا دے اور ان کی جگہ اعلیٰ درجہ کی خوبیاں پیدا کر دے۔عربوں کی جو حالت تھی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں وہ سارے عیبوں اور برائیوں کا مجموعہ بنے ہوئے تھے اور صدیوں سے ان کی یہ حالت بگڑی ہوئی تھی مگر کس قدر آپ کے فیوضات اور برکات میں قوت تھی کہ تئیس برس کے اندر کل ملک کی کایا پلٹ دی، یہ تعلیم ہی کا اثر تھا۔ایک چھوٹی سے چھوٹی سورۃ بھی اگر قرآن شریف کی لے کر دیکھی جاوے تو معلوم ہوگا کہ اس میں فصاحت بلاغت کے مراتب کے علاوہ تعلیم کی ذاتی خوبیوں اور کمالات کو اس میں بھر دیا ہے۔سورہ اخلاص ہی کو دیکھو کہ توحید کے کل مراتب کو بیان فرمایا ہے اور ہر قسم کے شرکوں کا ر ڈ کر دیا ہے۔اسی طرح سورۃ فاتحہ کو دیکھو کہ کس قدر اعجاز ہے۔چھوٹی سی سورہ جس کی سات آیتیں ہیں لیکن دراصل سارے قرآن شریف کا فن اور خلاصہ اور فہرست ہے۔اور پھر اس میں خدا تعالیٰ کی ہستی، اس کے صفات، دُعا کی ضرورت، اس کی قبولیت کے اسباب اور ذرائع مفید اور سود مند دُعاؤں کا طریق، نقصان رساں راہوں سے بچنے کی ہدایت سکھائی ہے وہاں دنیا کے کل مذاہب باطلہ کا رد اس میں موجود ہے۔اکثر کتابوں اور اہل مذہب کو دیکھو گے کہ وہ دوسرے مذاہب کی برائیاں اور نقص بیان کرتے ہیں اور دوسری تعلیموں پر نکتہ چینی کرتے ہیں مگر ان نکتہ چینیوں کو پیش کرتے ہوئے یہ کوئی اہل مذہب نہیں کرتا کہ اس کے بالمقابل کوئی عمدہ تعلیم پیش بھی کرے اور دکھائے کہ اگر میں فلاں بُری بات سے بچانا چاہتا ہوں تو اس کی بجائے یہ اچھی تعلیم دیتا ہوں۔یہ کسی مذہب میں نہیں یہ فخر قرآن شریف ہی کو ہے کہ جہاں وہ دوسرے مذاہب باطلہ کا رڈ کرتا ہے۔اور ان کی غلط تعلیموں کو کھولتا ہے وہاں اصلی اور حقیقی تعلیم بھی پیش کرتا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۷ار مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۳ ، صفحہ ۲،۱) ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں فصاحت بلاغت کا زور تھا، اس لئے آپ کو قرآن کریم بھی ایک معجزہ اسی رنگ کا ملا۔یہ رنگ اسی لئے اختیار کیا کہ شعراء، جادو بیان سمجھے جاتے تھے اور ان کی زبان میں اتنا اثر تھا کہ وہ جو چاہتے تھے چند شعر پڑھ کر کر ا لیتے تھے۔جیسے آج کل جوش دلانے کے لئے انگریزوں نے باجا رکھا ہوا ہے ان کے پاس زبان تھی جو دلیری اور حوصلہ پیدا کر دیتی تھی۔ہر حربہ میں وہ شعر سے کام لیتے تھے اور فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ (الشعراء : ۲۲۶) کے مصداق تھے۔اس لئے اس وقت ضروری تھا کہ خدا