تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 98

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۸ سورة البقرة فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ (المؤمنون: ۱۵) اور خدا تعالیٰ کی وحی میں بھی یہی آیا۔اور اگر کہو کہ پھر خدا تعالیٰ کے کلام اور انسان کے کلام میں ما بہ الامتیاز کیا ہوا؟ تو اول تو ہم اس کا یہی جواب دیتے ہیں کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے آپ قرآن شریف میں فرمایا ہے مابہ الامتیاز قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ کلام جو غیر کا کلام کہلاتا ہے قرآنی سورتوں میں سے کسی سورت کے برابر ہو۔کیونکہ اعجاز کے لئے اسی قدر معتبر سمجھا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ یہ نہیں فرمایا که فَأْتُوا بِايَةٍ مِنْ مِثْلِهِ يا فَأْتُوا بِكَلِمَةٍ مِنْ مِثْلِهِ۔اور در حقیقت یہ سچ ہے کہ خدا کے کلمات علیحدہ علیحدہ تو وہی کلمات ہیں جو کفار کی زبان پر بھی جاری تھے۔پھر رنگینی عبارت اور نظم کلام اور دیگر لوازم کے لحاظ سے وہی کلمات بحیثیت مجموعی ایک معجزہ کے رنگ میں ہو گئے اور جو معجزہ خدا تعالیٰ کے افعال میں پایا جاتا ہے اس کی بھی یہی نشانی ہے یعنی وہ بھی اپنی حیثیت مجموعی سے معجزہ بنتا ہے جیسا کہ کلام اپنی حیثیت مجموعی سے معجزہ بنتا ہے۔ہاں خدا تعالیٰ کے منہ سے جو چھوٹے چھوٹے فقرے نکلتے ہیں وہ اپنے مطالب عالیہ کے لحاظ سے جوان کے اندر ہوتے ہیں انسانی فقرات سے امتیاز کلی رکھتے ہیں۔یہ امر دیگر ہے کہ انسان ان کے پوشیدہ حقائق و معارف تک نہ پہنچےمگر ضرور ان کے اندر انوار مخفیہ ہوتے ہیں جو ان کلمات کی رُوح ہوتے ہیں۔جیسا کہ یہی کلمہ فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ (المؤمنون: ۱۵) اپنی گذشتہ آیات کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ایک امتیازی رنگ اپنے اندر رکھتا ہے۔یعنی اس قسم کی روحانی فلاسفی اس کے اندر بھری ہوئی ہے کہ وہ بجائے خود ایک معجزہ ہے جس کی نظیر انسانی کلام میں نہیں ملتی۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۱۸۴، ۱۸۵) قرآن شریف کی فصاحت بلاغت ایسی اعلیٰ درجہ کی اور مسلم ہے کہ انصاف پسند دشمنوں کو بھی اسے ماننا پڑا ہے۔قرآن شریف نے فَأْتُوا بِسُورَةٍ من مِثْلِہ کا دعویٰ کیا لیکن آج تک کسی سے ممکن نہیں ہوا کہ اس کی مثل لا سکے۔عرب جو بڑے فصیح و بلیغ بولنے والے تھے اور خاص موقعوں پر بڑے بڑے مجمع کرتے اور ان میں اپنے قصائد سناتے تھے وہ بھی اس کے مقابلے میں عاجز ہو گئے۔اور پھر قرآن شریف کی فصاحت بلاغت ایسی نہیں ہے کہ اس میں صرف الفاظ کا تتبع کیا جاوے اور معانی اور مطالب کی پرواہ نہ کی جاوے بلکہ جیسا اعلیٰ درجہ کے الفاظ ایک عجیب ترتیب کے ساتھ رکھے گئے ہیں۔اسی طرح پر حقائق اور معارف کو ان میں بیان کیا گیا ہے اور یہ رعایت انسان کا کام نہیں کہ وہ حقائق اور معارف کو بیان کرے اور فصاحت و بلاغت کے مراتب کو بھی ملحوظ رکھے۔ایک جگہ فرماتا ہے: يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبْ قَيَّمَةٌ (البينة: ۳، ۴) یعنی ان پر ایسے صحائف