تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 100

سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تعالیٰ اپنا کلام بھیجتا۔پس خدا تعالیٰ نے اپنا کلام نازل فرمایا اور اسی کلام کے رنگ میں اپنا معجزہ پیش کر دیا جبکہ ان کو مخاطب کر کے کہہ دیا کہ وإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ تم جو اپنی زبان دانی کا دم مارتے اور لاف زنی کرتے ہو اگر کوئی قوت اور حوصلہ ہے تو اس کلام کے معجزہ کے مقابل کچھ پیش کر کے دکھا ؤ لیکن باوجود اس کے کہ وہ جانتے تھے کہ اگر کچھ نہ بنایا ( خصوصاً ایسی حالت میں کہ جب تحدی کر دی گئی ہے کہ تم ہرگز ہرگز بنا نہ سکو گے ) تو ملزم ہو کر ذلیل ہو جائیں گے پھر بھی وہ کچھ پیش نہ کر سکے۔اگر وہ کچھ بناتے اور پیش کرتے تو صیح تاریخ ضرور شہادت دیتی مگر کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ کسی نے کچھ بنایا ہو۔پس خدا تعالیٰ نے اس وقت اسی رنگ کا معجزہ دکھایا تھا۔(احکام جلد ۶ نمبر ۱۵ مورمحه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۲ صفحه ۷) اِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ۔اس میں مِن مِثْلِہ کے یہ معنے بھی اکثر مفسرین نے کئے ہیں کہ اگر مقابلہ میں کوئی لکھ کر لاویں تو اس میں پیشگوئیاں بھی اسی طرح ہوں جیسے قرآن شریف میں ہیں۔(البدر جلد نمبرے مورخہ ۱۲ / دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵۱) فرمایا : وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ یعنی جہنم کی آگ کا ایندھن جس سے وہ آگ ہمیشہ افروختہ رہتی ہے۔دو چیزیں ہیں؛ ایک وہ انسان جو حقیقی خدا کو چھوڑ کر اور اور چیزوں کی پرستش کرتے ہیں یا ان کی مرضی سے ان کی پرستش کی جاتی ہے۔جیسا کہ فرمایا: الكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ (الانبياء ٩٤) یعنی تم اور تمہارے باطل معبود جو انسان ہو کر خدا کہلاتے رہے جہنم میں ڈالے جائیں گے دوسرا ایندھن جہنم کا بت ہیں۔مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں کا وجود نہ ہوتا تو جہنم بھی نہ ہوتا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۳) وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ اَنَّ لَهُمْ جَنْتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهرُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَ (٢٦) أتُوا بِهِ مُتَشَابِهَا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَلِدُونَ یعنی جو لوگ ایمان لاتے اور اچھے عمل بجالاتے ہیں وہ ان باغوں کے وارث ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے ایمان کو باغ کے ساتھ مشابہت دی۔جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔پس واضح رہے کہ اس جگہ ایک اعلیٰ درجہ کی فلاسفی کے رنگ میں بتلایا گیا ہے کہ جو رشتہ نہروں کا باغ کے ساتھ ہے وہی رشتہ اعمال کا ایمان کے ساتھ ہے۔پس جیسا کہ کوئی باغ بغیر پانی کے سرسبز نہیں رہ سکتا ایسا ہی