تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 55
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة حَقِّ بِأَنْوَاعِ النِّعْمَةِ يَحْمَدُهُ كُلُّ مَنْ أَنْعِمَ انعام و اکرام کیا جاتا ہے اور یہ بات انسانی فطرت کا خاصہ عَلَيْهِ وَهُذَا مِنْ خَوَاتِ النَّشْأَةِ ہے پھر جب اتمام نعمت کے باعث حمد اپنے کمال کو پہنچ الْإِنْسَانِيَّةِ ثُمَّ إِذَا كَمُلَ الْحَمْدُ بِكَمَالِ جائے تو وہ کامل محبت کی جاذب بن جاتی ہے اور ایسا محسن الْإِنْعَامِ جَنَّبَ ذَالِكَ إِلَى الْحُبِ الشَّامِ اپنے محبوں کی نظر میں بہت قابل تعریف اور محبوب بن جاتا فَيَكُونُ الْمُحْسِنُ مُحَمَّدًا وَمَحْبُوبًا في أَعْيُن ہے اور یہ صفت رحمانیت کا نتیجہ ہے۔پس آپ عقلمندوں کی الْمُحِتِينَ فَهَذَا مَالُ صِفَةِ الرَّحْمَانِ طرح ان باتوں پر غور کیجئے۔اب اس بیان سے ہر صاحب فَفَكَّرْ كَالْعَاقِلِينَ۔وَقَدْ ظَهَرَ مِن هذا عرفان پر واضح ہو گیا ہے کہ الرحمن بہت حمد کیا گیا ہے الْمَقَامِ لِكُلِ مَنْ لَهُ عِرْفَانُ أَنَّ الرَّحْمٰن اور ( کامل ) حمد کیا گیا اگر محمن ہے بلاشبہ ان دونوں کا نتیجہ مُحَمَّدٌ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّحْمَانٌ وَلَا شَكَ أَنَّ ایک ہی ہے اور اس سچائی سے ناواقف ہی اس کا انکار کرنے مَالُهُمَا وَاحِدٌ۔وَقَدْ جَهَلَ الْحَقِّ مَنْ هُوَ والا ہے۔لیکن صفت رحیمیت کی حقیقت اور اس کی مخفی جَاحِدٌ، وَأَمَّا حَقِيقَةُ صِفَةِ الرَّحِيميّة روحانی کیفیت یہ ہے کہ اہل مسجد کے اعمال پر انعام و برکت وَمَا أُخْفِى فِيهَا مِنَ الْكَيْفِيَّةِ الرُّوحَانِيَّةِ کا افاضہ ہو نہ کہ گر جا والوں پر۔اور مخلص کام کرنے والوں فَهِيَ إِفَاضَةُ إِنْعَامِ وَ خَيْرٍ عَلَى عَمَلٍ مِن کے اعمال کی تعمیل کی جائے اور تلافی کرنے والوں اور أَهْلِ مَسْجِدٍ لَّا مِنْ أَهْلِ دَيْرٍ وَ تَكْمِيلُ معاونوں اور مددگاروں کی طرح ان کی کوتاہیوں کا تدارک عَمَلِ الْعَامِلِينَ الْمُخْلِصِينَ وَ جَبْرُ کیا جائے۔بلاشبہ یہ افاضہ (بندوں پر ) خدائے رحیم کی نُقْصَانِهِمْ كَالْمُتَلَافِينَ وَ الْمُعِيْنِینَ وَ طرف سے ان کی تعریف کے حکم میں ہے کیونکہ وہ اس النَّاصِرِينَ وَلَا شَكَ أَنَّ هَذِهِ الْإِفَاضَةَ في طرح کی رحمت کسی عمل کرنے والے پر اُسی وقت نازل حُكْمِ الْحَمْدِ مِنَ اللهِ الرَّحِيمِ فَإِنَّهُ لا کرتا ہے جب کہ بندہ صیح طریق پر اس کی تعریف کرتا ہے يُنزِلُ هَذِهِ الرَّحْمَةَ عَلَى عَامِلٍ إِلَّا بَعْدَ مَا اور خدا تعالیٰ اس کے عمل پر راضی ہوتا ہے اور اسے حَمِدَهُ عَلَى تَهْجِهِ الْقَوِيْمِ۔وَرَضِيَ بِهِ عَمَلاً اپنے وسیع فضل کا مستحق پاتا ہے۔کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ورَاةَ مُسْتَحِقًا للفضل العبيمِ أَلا ترى خدا تعالی کافروں ، مشرکوں ، ریا کاروں اور متکبر وں کے أَنَّهُ لَا يَقْبَلُ عَمَلَ الْكَافِرِينَ وَالْمُشْرِكِينَ اعمال قبول نہیں کرتا بلکہ ان کے عملوں کو ضائع کر دیتا ہے اور وَالْمُرَائِينَ وَالْمُتَكَبْرِينَ بَلْ يُخيط نہ تو اپنی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور نہ مددفرماتا ہے