تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 54

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۴ سورة الفاتحة أُعْطِيَ اسْمَيْنِ كَمِثْلِ هَاتَيْنِ الصَّفَتَيْنِ۔کیونکہ آپ کو پروردگار دو عالم کے فضل سے ان دونوں صفات اَوَّلُهُمَا مُحَمَّد و القاني احمد مِن فَضْلِ رَبِّ کی طرح دو نام دیئے گئے ہیں جن میں سے پہلا محمد ہے الْكَوْنَين۔أما مُحَمَّد فَقَدِ از تلی رِدَاءَ اور دوسرا احمد۔پس اسم محمد نے صفت الرحمن کی چادر پہنی صِفَةِ الرَّحْمَنِ۔وَتَجَلى في محلّلِ الْجَلالِ و اور جلال اور محبوبیت کے لباس میں جلوہ گر ہوا اور اپنی نیکی الْمَحْبُوبِيَّةِ وَحُمَّدَ لِي مِنْهُ وَ الْإِحْسَانِ وَ اور احسان کی بناء پر بار بار تعریف بھی کیا گیا۔اور اسم احمد لِبِرِّ أَمَّا أَحْمَدُ فَتَجَل في حُلَّةِ الرَّحِيمِيَّةِ وَ نے خدا تعالیٰ کے فضل سے جو مومنوں کی مدد اور نصرت کا الْمُحِبّيَّةِ وَالْجَمَالِيَّةِ فَضْلًا مِّنَ اللهِ الَّذِی متولی ہے رحیمیت ،محبیت اور جمال کے لباس میں تحلی يَتَوَلَّى الْمُؤْمِنِينَ بِالْعَوْنِ وَ النُّصْرَةِ فرمائی۔پس ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں نام فَصَارَ اسْتمَا نَبِيَّنَا بِحِذَاءِ صِفَتَى رَبِّنَا (محمد اور احمد ) ہمارے ربّ محسن کی دونوں صفتوں الْمَتَانِ كَصُورٍ مُنْعَكِسَةٍ تُظهِرُهَا مِرَاتَانِ (الرحمان الرحيم ) کے مقابلہ میں منعکسہ صورتوں کی طرح مُتَقَابِلَتَانِ۔وَتَفْصِيلُ ذَالِكَ أَنَّ حَقِيقَةً ہیں جن کو دو مقابل کے آئینے ظاہر کرتے ہیں اس کی صِفَةِ الرَّحْمَانِيَّةِ عِندَ أَهْلِ الْعِرْفَانِ هِی تفصیل یوں ہے کہ اہل عرفان کے نزدیک اس صفت إِفَاضَةُ الْخَيْرِ لِكُلِّ ذِی رُوحِ مِنَ الْإِنْسَانِ رحمانیت کی حقیقت یہ ہے کہ ہر ذی روح کو انسان ہو یا وَغَيْرِ الْإِنْسَانِ مِنْ غَيْرِ عَمَلٍ سَابِقٍ بَل غیر انسان بغیر کسی سابقہ عمل کے محض احسان کے طور پر فیض خَالِصًا عَلَى سَبِيلِ الْاِمْتِنَانِ وَلَا شَكَ پہنچایا جائے اور اس میں کوئی شک نہیں اور نہ کسی اختلاف کی وَلَا خِلَافَ أَنَّ مِثْلَ هَذِهِ الْمِئَةِ الْخَالِصَةِ گنجائش ہے کہ اس قسم کا خالص احسان جو مخلوق میں سے کسی الَّتِي لَيْسَتْ جَزَاءُ عَمَلِ عَامِلٍ مِّنَ کام کرنے والے کے کسی کام کا صلہ نہ ہوں، مومنوں کے دلوں الْبَرِيَّةِ هِى تجذب قُلُوبَ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى کو ثناء ، مدح اور حمد کی طرف کھینچتا ہے۔لہذا وہ خلوص قلب الشّتَاءِ وَالْمَدحِ وَالْمَحْمَدَةِ۔فَيَحْمَدُونَ اور صحت نیت سے اپنے محسن کی حمد و ثناء کرتے ہیں۔اس الْمُحْسِنَ وَيُذْلُونَ عَلَيْهِ بِخُلُوصِ الْقُلُوبِ طرح بغیر کسی وہم کے جو شک وشبہ میں ڈالے خدائے رحمان وَصِيَّةِ النِّيَّةِ فَيَكُونُ الرَّحْمَانُ مُحَمَّدًا يقيناً قابل تعریف بن جاتا ہے کیونکہ ایسے انعام کرنے والی يَقِيْنَا مِنْ غَيْرِ وَهُم يَجُرُّ إِلَى الريْبَةِ فَإِنَّ ہستی جو لوگوں پر بغیر ان کے کسی حق کے طرح طرح کے الْمُنْعِمَ الَّذِي يُحْسِنُ إِلَى النَّاسِ مِنْ غَيْرِ احسان کرے اُس ہستی کی ہر وہ شخص حمد کرے گا جس پر