تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 56

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۶ سورة الفاتحة بِنُصْرَةٍ۔أَعْمَالَهُمْ وَلَا يَهدِيهِمْ إِلَيْهِ وَلَا بلکہ انہیں بے یارو مددگار چھوڑ دیتا ہے اور اس میں کوئی شک يَنْصُرُهُمْ بَلْ يَتْرُكُهُمْ كَالْمَخْذُولِین نہیں کہ وہ کسی کی طرف اپنی صفت رحیمیت کے ساتھ متوجہ فَلا شَكَ أَنَّهُ لا يَتُوبُ إِلى أَحَدٍ نہیں ہوتا اور نہ کسی کے عمل کو اپنی نصرت اور اعانت سے پایہ بِالرَّحِيمِيَّةِ وَلَا يُكَتِلُ عَمَلَهُ بِنضرة تحمیل تک پہنچاتا ہے بجز اس کے کہ بندہ عملاً خدا سے راضی مِنْهُ وَالْإِعَانَةِ إِلَّا بَعْدَ مَا رَضِی بِهِ فِعلاً ہو اور اس کی ایسی حمد کرے جو نزول رحمت کو مستلزم ہو۔پھر و حَمِدَهُ عَمْدًا يَسْتَلْزِمُ نُزُولَ الرَّحْمَةِ جب مخاصین کے اعمال کے کامل ہونے پر اللہ تعالیٰ کی طرف ثُمَّ إِذَا كَبُلَ الْحَمدُ مِنَ اللهِ بِكَمَالِ سے ان کی حمد کمال کو پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ احمد بن جاتا ہے اور أَعْمَالِ الْمُخْلِصِينَ فَيَكُونُ اللهُ أَحْمَدَ وَ بندہ محمد بن جاتا ہے۔پس پاک ہے اللہ جو سب سے پہلا محمد الْعَبْدُ مُحَمَّدًا فَسُبْحَانَ الله أَوّل اور سب سے پہلا احمد ہے۔اور اُس وقت وہ بندہ جو اپنے عمل الْمُحَمَّدِيْنَ وَ الْأَحْمَدِينَ وَ عِنْدَ ذَالِكَ میں مخلص ہو خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں محبوب بن جاتا ہے کیونکہ يَكُونُ الْعَبْدُ الْمُخْلِصُ في العَمَلِ مَحْبُوبًا اللہ تعالیٰ اپنے عرش سے اس کی تعریف کرتا ہے اور وہ کسی کی في الْحَضْرَةِ۔فَإِنَّ اللهَ يَحْمَدُهُ مِنْ عَرشه تعريف صرف اسی وقت فرماتا ہے جب اُسے اُس سے محبت وَهُوَ لَا يَحْمَدُ أَحَدًا إِلَّا بَعْدَ الْمَحَبَّةِ۔ہو جائے۔فَحَاصِلُ الْكَلَامِ آنَ كَمَال خلاصہ کلام یہ ہے کہ صفت رحمانیت کا کمال اللہ تعالیٰ کو الرَّحْمَانِيَّةِ يَجْعَلُ اللهَ مُحَمَّدًا وَمَحْبُوبًا محمد اور محبوب بنا دیتا ہے اور بندہ کو احمد بنا دیتا ہے۔اور ایسا وَيَجْعَلُ الْعَبْدَ أَحْمَدَ وَمُحِبًا يَسْتَقْرِى محبّ جو ہر دم اپنے محبوب کی تلاش میں لگا رہتا ہے۔صفتِ مَطلُوبًا وَكَمَالُ الرَّحِيمِيَّةِ يَجْعَلُ الله رحیمیت کا کمال اللہ تعالیٰ کو احمد (بندے کی تعریف کرنے أَحْمَدَ وَ مُحِنا وَيَجْعَلُ الْعَبْدَ مُحَمَّدًا و والا ) اور محب بناتا ہے اور بندہ کو محمد ( قابل تعریف ) اور حِنَّا وَسَتَعْرِفُ مِنْ هَذَا الْمَقَامِ شَأْنَ محبوب بناتا ہے۔اے مخاطب اس بیان سے تو ہمارے امام نَبِيْنَا الْإِمَامِ الْهُمَامِ فَإِنَّ الله سماه تمام پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو معلوم کر سکتا ہے کیونکہ مُحَمّدًا وَأَحْمَدَ وَ ما سلمى بمَا عِيسَى وَلَا اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور یہ دونوں نام كَلِما وَ أَشْرَكَهُ فِي صِفَتَيْهِ الرَّحْمَانِ وَ حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو نہیں دیئے اور خدا نے الرَّحِيمِ مَا كَانَ فَضْلُهُ عَلَيْهِ عَظِيمًا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ان دو صفات رحمن اور رحیم