تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 53

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۳ سورة الفاتحة الْمَحْبُوبِيَّةِ وَ بَعْضًا أَخَرَ حَظًّا كَثِيرًا اور اس کے فضلِ عظیم کے ساتھ آپس میں محبت سے زندگی بسر مِنْ صِفَةِ الْمُحِبْيَّةِ وَ كَذَالِك أَرَادَ کریں اُس نے ان میں سے بعض کو محبوبیت کی صفت سے بِفَضْلِهِ الْعَمِيمِ وَجُوْدِهِ الْقَدِيمِ وَلَمَّا حصّہ وافر عطا فر مایا اور بعض دوسروں کو صفت محبیت کا بہت جَاءَنَ وَ زَمَنْ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَسَيِّدِنَا ساحصّہ دیا۔اور اسی کا خدا تعالیٰ نے اپنے وسیع فضل اور دائمی مُحَمَّدٍ سَيْدِ الْمُرْسَلِينَ۔أَرَادَ هُوَ سُبْحَانَهُ کرم سے ارادہ فرمایا۔اور جب ہمارے آقا سید المرسلین و أَن تَجْمَعَ هَاتَيْنِ الصَّفَتَيْنِ في نفيس خاتم النبيين محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آیا تو اللہ تعالی کی پاک وَاحِدَةٍ فَجَمَعَهُمَا فِي نَفْسِهِ عَلَيْهِ أَلْفُ ذات نے ارادہ فرمایا کہ ان دونوں صفات کو ایک ہی شخصیت أَلْفِ صَلوة و تَحِيَّةٍ فَلِذَالِك ذكر میں جمع کر دے۔چنانچہ اس نے آنحضرت کی ذات میں الفَصِيصًا صِفَةَ الْمَحْبُوبِيَّةِ وَ الْمُحِبْيَّة ( آپ پر ہزاروں ہزار درود اور سلام ہو) یہ دونوں صفات جمع عَلى رَأْس هَذِهِ السُّورَةِ لِيَكُونَ إِشَارَةٌ کردیں یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ کے شروع إلى هذِهِ الْإِرَادَةِ۔وَسلمى نَبِيِّنَا مُحَمداو میں صفت محبوبیت اور صفت محبیت کا خاص طور پر ذکر کیا أَحْمَدَ كَمَا سَلمى نَفْسَهُ الرَّحْمَانَ وَ ہے تا اس سے خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کی طرف اشارہ ہو اور الرَّحِيْمَ في هَذِهِ الْآيَةِ۔فَهَذِهِ إِشَارَةٌ اُس نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد اور احمد رکھا۔إلى أَنه لا جَامِعَ لَهُمَا عَلَى الطَّرِيقَةِ جیسا کہ اس نے اس آیت میں اپنا نام الر حمن اور الرّحِیم القليَّةِ إِلَّا وُجُودُ سَيّدِنَا خَيْرِ الْبَرِيَّةِ رکھا۔پس یہ بات اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ان دونوں وَقَدْ عَرَفتَ أَنَّ هَاتَيْنِ الصَّفَتَيْنِ صفات کا ہمارے آقا فخر دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور أَكْبَرُ الصَّفَاتِ مِنْ صِفَاتِ الْحَضْرَةِ کوئی جامع وجود نہیں۔اور آپ کو معلوم ہے کہ یہ دونوں الْأَحَدِيَّةِ بَلْ هُمَالُبُ اللُّبَابِ و صفات خدا تعالیٰ کی صفات میں سے سب سے بڑی صفات حَقِيقَةُ الْحَقَائِقِ لِجَميعِ أَسْمَائِهِ ہیں بلکہ یہ اس کے تمام صفاتی ناموں کے خلاصوں کا خلاصہ الصَّفَاتِيَّةِ۔وَهُمَا مِعْيَارُ كَمَالِ كُلِّ مَن اور حقیقتوں کی نچوڑ ہیں۔یہ ہر اس شخص کے کمال کا معیار ہیں اسْتَكْمَلَ وَ تَخَلَّقَ بِالْأَخْلَاقِ الْإِلَهِيَّةِ جو کمال کا طالب ہے اور اخلاق الہیہ کا رنگ اختیار کرتا ہے۔وَمَا أُعْطِيَ نَصِيبًا كَامِلاً مِّنهُمَا إِلَّا پھر ان دونوں صفات میں سے کامل حصہ صرف ہمارے نَبِيُّنَا خَاتَمُ سِلْسِلَةِ النُّبُوَّةِ فَإِنَّهُ | نبی سلسلہ نبوت کے خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیا گیا ہے