تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 7

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 2 سورة الفاتحة وَلِكُلٍ مِنْهَا دَلَالَةٌ عَلى كَيْفِيَّةِ ايلاف | سات آیات دنیا کی عمر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہ سات وَالأَ لُفُ الْأَخِيرُ فِي الضَّلَالِ كَبِيرُ ہزار سال ہے اور ہر آیت ہزار سال کی کیفیت پر دلالت وَكَانَ هَذَا الْمُقَامُ يَقْتَضِى هذا کرتی ہے اور یہ کہ آخری ہزار سال گمراہی میں بڑھ کر ہو گا الإعْلَامَ كَمَا كَفَلَتِ الذِكْرَ إلى مَعَادٍ اور یہ مقام اسی طرح اظہار کا مقتضی تھا جس طرح یہ سورۃ من التناف شروع دنیا سے لے کر آخرت تک کے ذکر کی کفیل ہے۔لے کر کے کی اعجاز مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۷۷ تا ۷۹) سورۃ فاتحہ کے خواص ( ترجمه از مرتب) واضح ہو کہ اگر کوئی کلام ان تمام چیزوں میں سے کہ جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے صادر اور اس کے دستِ قدرت کی صنعت ہیں کسی چیز سے مشابہت کھلی رکھتا ہو یعنی اس میں عجائبات ظاہری و باطنی ایسے طور پر جمع ہوں کہ جو مصنوعات الہیہ میں سے کسی شے میں جمع ہیں تو اس صورت میں کہا جائے گا کہ وہ کلام ایسے مرتبہ پر واقع ہے کہ جس کی مثل بنانے سے انسانی طاقتیں عاجز ہیں کیونکہ جس چیز کی نسبت بے نظیر اور صادر من اللہ ہونا عند الخواص والعوام ایک مسلم اور مقبول امر ہے جس میں کسی کو اختلاف و نزاع نہیں اس کی وجوہ بے نظیری میں کسی شے کی شراکت تامہ ثابت ہونا بلاشبہ اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ وہ شے بھی بے نظیر ہی ہے مثلاً اگر کوئی چیز اس چیز سے بلکلی مطابق آجائے جو اپنے مقدار میں دس گز ہے تو اس کی نسبت بھی یہ علم صحیح قطعی مفید یقین جازم حاصل ہوگا کہ وہ بھی دس گز ہے۔سورۃ فاتحہ میں گلاب ایسی وجوہ بےنظیری اب ہم ان مصنوعات الہیہ میں سے ایک لطیف مصنوع کو مثلاً گلاب کے پھول کو بطور مثال قرار دے کر اس کے وہ عجائبات ظاہری و باطنی لکھتے ہیں جن کی رو سے وہ ایسی اعلیٰ حالت پر تسلیم کیا گیا ہے کہ اس کی نظیر بنانے سے انسانی طاقتیں عاجز ہیں اور پھر اس بات کو ثابت کر کے دکھلائیں گے کہ ان سب عجائبات سے سورۃ فاتحہ کے عجائبات اور کمالات ہم وزن ہیں۔بلکہ ان عجائبات کا پلہ بھاری ہے اور اس مثال کے اختیار کرنے کا موجب یہ ہوا کہ ایک مرتبہ اس عاجز نے اپنی نظر کشفی میں سورۃ فاتحہ کو دیکھا کہ ایک ورق پر لکھی ہوئی اس عاجز کے ہاتھ میں ہے اور ایک ایسی خوبصورت اور دلکش شکل میں ہے کہ گویا وہ کاغذ جس پر سورۃ فاتحہ لکھی ہوئی ہے