تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 6
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة الْمَقَانِي بِمَا أَنهَا مُسْتَفْنَاةٌ مِّن سَائِرِ | بخشش پر مشتمل ہے۔بعض علماء کے نزدیک اس کا نام السبع الْكُتُبِ الإِلَهِيَّةِ۔وَلَا يُوجَدُ مِثْلُهَا في المثانی اس لئے ہے کہ یہ سورۃ تمام کتب الہیہ میں امتیازی التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنجِيلِ وَلَا فِي الصُّحُفِ شان رکھتی ہے اور اس کی مانند کوئی سورۃ تو رات یا انجیل یا النَّبَوِيَّةِ وَ قِيْلَ أَنَهَا سُميت مَقاني دوسرے صحفِ انبیاء میں نہیں پائی جاتی اور بعض کا خیال ہے لأَنها سَبْعُ آيَاتٍ مِن الله الكَرِيمِ کہ اس کا نام مشانی اس لئے ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ایسی سات وَتَعْدِلُ قِرَاءَتُ كُلّ آيَةٍ مِنهَا قِرَاء آیات پر مشتمل ہے کہ ان میں سے ہر آیت کی قرآت قرآن شبع من الْقُرْآنِ الْعَظِيْمِ۔وَ قِيْلَ عظیم کے ساتویں حصہ کی قرآت کے برابر ہے اور یہ بھی کہا سُمِيَتْ سَبْعًا إِشَارَةً إِلَى الْأَبْوَابِ گیا ہے کہ اس کا نام السبع المثانی اس بناء پر رکھا گیا ہے السَّبْعَةِ مِنَ الذِيرَانِ وَلِكُلّ مِنهَا کہ اس میں جہنم کے سات دروازوں کی طرف اشارہ ہے جُزْءٌ مَقْسُومٌ يَدْفَعُ شُوَاظَهَا بِإِذْنِ اللہ اور ان میں سے ہر ایک دروازہ کے لئے اس سورۃ کا ایک الرَّحْمَانِ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَمُرّ سَالِمًا من حصہ مقرر ہے جو خدائے رحمان کے اذن سے جہنم کے سَبْعِ أَبْوَابِ السَّعِيرِ۔فَعَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ شعلوں کو دُور کرتا ہے۔پس جو شخص جہنم کے ان سات هذِهِ السَّبْعَ وَيَسْتَأْنِسَ بِهَا وَ يَطلب دروازوں سے محفوظ گزرنا چاہتا ہے اسے لازم ہے کہ وہ اس الصَّبْرَ عَلَيْهَا مِنَ اللهِ القَدِيرِ وَكُلٌّ ما سورة کی ساتوں آیات کے حصار میں داخل ہو اور ان سے يُدْخِلُ في جَهَنَّمَ مِنَ الأخلاق دلی لگاؤر کھے اور ان پر عمل کرنے کے لئے خدائے قدیر سے وَالْأَعْمَالِ وَالْعَقَائِدِ فَهِيَ سَبْع استقلال طلب کرے اور تمام اخلاق، اعمال اور عقائد جو مُؤبِقَاتٌ مِنْ حَيْثُ الْأُصُولِ۔وهذا؟ انسان کو جہنم میں داخل کرتے ہیں وہ اصولی طور پر سات سبع لدفع هذِهِ الشَّدَائِدِ۔وَلَهَا أَسْمَاء مہلک امور ہیں اور سورت فاتحہ کی یہ سات آیات ایسی ہیں أُخْرَى فِي الْأَخْبَارٍ وَ كَفَاكَ هَذَا فَإِنَّهُ جوان مہلکات کی شدائد کو دفع کرتی ہیں۔احادیث میں اس خَزِينَةُ الْأَسْرَارِ وَمَعَ ذَالِك حضر هذا سورۃ کے اور بھی کئی نام مذکور ہیں لیکن تیرے لئے اسی قدر التَّعْدَادِ إِشَارَةٌ إِلى سَلَوَاتِ الْمَبْدَهِ و بیان کا فی ہے کہ یہ الہی اسرار کا خزانہ ہے۔علاوہ ازیں اس الْمَعَادِ۔أَعْنِى أَنَّ ايَاتِهَا السَّبْعَ إِيْمَاء إِلى سورت کی آیات کا سات کی تعداد میں منحصر ہونا مبدء ومعاد عُمُرِ الدُّنْيَا فَإِنَّهَا سَبْعَةُ آلَافٍ کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے میری مراد یہ ہے کہ اس کی و