تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 8

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام Δ سورة الفاتحة سرخ سرخ اور ملائم گلاب کے پھولوں سے اس قدر لدا ہوا ہے کہ جس کا کچھ انتہا نہیں اور جب یہ عاجز اس سورۃ کی کوئی آیت پڑھتا ہے تو اس میں سے بہت سے گلاب کے پھول ایک خوش آواز کے ساتھ پرواز کر کے اوپر کی طرف اُڑتے ہیں اور وہ پھول نہایت لطیف اور بڑے بڑے اور سندر اور تر و تازہ اور خوشبودار ہیں جن کے اوپر چڑھنے کے وقت دل و دماغ نہایت معطر ہو جاتا ہے اور ایک ایسا عالم مستی کا پیدا کرتے ہیں کہ جو اپنی بے مثل لذتوں کی کشش سے دنیا و مافیہا سے نہایت درجہ کی نفرت دلاتے ہیں۔اس مکاشفہ سے معلوم ہوا کہ گلاب کے پھول کو سورۃ فاتحہ کے ساتھ ایک روحانی مناسبت ہے۔سوال یہی مناسبت کے لحاظ سے اس مثال کو اختیار کیا گیا اور مناسب معلوم ہوا کہ اوّل بطور مثال گلاب کے پھول کے عجائبات کو کہ جو اس کے ظاہر و باطن میں پائے جاتے ہیں لکھا جائے اور پھر بمقابلہ اس کے عجائبات کے سورۃ فاتحہ کے عجائبات ظاہری و باطنی قلمبند ہوں تا ناظرین با انصاف کو معلوم ہو کہ جو خوبیاں گلاب کے پھول میں ظاہر و باطناً پائی جاتی ہیں جن کے رو سے اس کی نظیر بنانا عادتنا محال سمجھا گیا ہے۔اسی طور پر اور اس سے بہتر خوبیاں سورۃ فاتحہ میں موجود ہیں اور تا اس مثال کے لکھنے سے اشارہ کشفی پر بھی عمل ہو جائے۔پس جانا چاہئے کہ یہ امر ہر یک عاقل کے نزدیک بغیر کسی تر و داور توقف کے مسلم الثبوت ہے کہ گلاب کا پھول بھی مثل اور مصنوعات الہیہ کے ایسی عمدہ خوبیاں اپنی ذات میں جمع رکھتا ہے جن کی مثل بنانے پر انسان قادر نہیں اور وہ دوطور کی خوبیاں ہیں۔ایک وہ کہ جو اس کی ظاہری صورت میں پائی جاتی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اس کا رنگ نہایت خوشنما اور خوب ہے اور اس کی خوشبو نہایت دل آرام اور دلکش ہے اور اس کے ظاہر بدن میں نہایت درجہ کی ملائمت اور ترو تازگی اور نرمی اور نزاکت اور صفائی ہے اور دوسری وہ خوبیاں ہیں کہ جو باطنی طور پر حکیم مطلق نے اس میں ڈال رکھی ہیں یعنی وہ خواص کہ جو اس کے جو ہر میں پوشیدہ ہیں اور وہ یہ ہیں کہ وہ مفرح اور مقوی قلب اور مسکن صفرا ہے اور تمام قومی اور ارواح کو تقویت بخشتا ہے اور صفرا اور بلغم رقیق کا مسہل بھی ہے اور اسی طرح معدہ اور جگر اور گردہ اور امعا اور رحیم اور پھیپھڑہ کو بھی قوت بخشتا ہے اور خفقان حات اور غشی اور ضعف قلب کے لئے نہایت مفید ہے اور اسی طرح اور کئی امراض بدنی کو فائدہ مند ہے۔پس انہیں دونوں طور کی خوبیوں کی وجہ سے اس کی نسبت اعتقاد کیا گیا ہے کہ وہ ایسے مرتبہ کمال پر واقعہ ہے کہ ہرگز کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسا پھول بنا دے کہ جو اس پھول کی طرح رنگ میں خوشنما اور خوشبو میں دلکش اور بدن میں نہایت ترو تازہ اور نرم اور نازک اور مصفا ہو اور باوجود اس کے باطنی