تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 130

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳ سورة الفاتحة نے مانا ہے اور کہا ہے کہ ویدوں سے ایسے خدا ہی کا پتہ لگتا ہے جب اس کی نسبت وہ یہ ذکر کریں گے کہ اُس نے دنیا کا ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا اور نہ اُس نے روحوں کو پیدا کیا ہے تو کیا ایسے خدا کے ماننے والے کے لئے کوئی مقررہ سکتا ہے۔جب اُسے کہا جائے کہ ایسا خدا اگر مر جائے تو کیا حرج ہے کیونکہ جب یہ اشیاء اپنا وجود مستقل رکھتی ہیں اور قائم بالذات ہیں پھر خدا کی زندگی کی ان کی زندگی اور بقا کے لئے کیا ضرورت ہے جیسے ایک شخص اگر تیر چلائے اور وہ تیرا بھی جاہی رہا ہو کہ اس شخص کا دم نکل جائے تو بتاؤ کہ اس تیر کی حالت میں کیا فرق آئے گا ہاتھ سے نکلنے کے بعد وہ چلانے والے کے وجود کا محتاج نہیں ہے۔اسی طرح پر ہندوؤں کے خدا کے لئے اگر یہ تجویز کیا جائے کہ وہ ایک وقت مرجاوے تو کوئی ہندو اُس کی موت کا نقصان نہیں بتا سکتا۔مگر ہم خدا کے لئے ایسا تجویز نہیں کر سکتے کیونکہ اللہ کے لفظ سے ہی پایا جاتا ہے کہ اُس میں کوئی نقص اور بدی نہ ہو۔ایسا ہی جب کہ آریہ مانتا ہے کہ اجسام اور روحیں انادی ہیں یعنی ہمیشہ سے ہیں ہم کہتے ہیں کہ جب تمہارا یہ اعتقاد ہے پھر خدا کی ہستی کا ثبوت ہی کیا دے سکتے ہو؟ اگر کہو کہ اُس نے جوڑا جاڑا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ جب تم پر مانو اور پر کرتی کو قدیم سے مانتے ہو اور ان کے وجود کو قائم بالذات کہتے ہو تو پھر جوڑنا جاڑ نا توانی فعل ہے وہ جھڑ بھی سکتے ہیں اور ایسا ہی جب وہ یہ تعلیم بتاتے ہیں کہ خدا نے وید میں مثلاً یہ حکم دیا ہے کہ اگر کسی عورت کے ہاں اپنے خاوند سے بچہ پیدا نہ ہو سکتا ہو تو وہ کسی دوسرے سے ہم بستر ہوکر اولاد پیدا کرلے تو بتاؤ ایسے خدا کی نسبت کیا کہا جاوے گا؟ یا مثلاً یہ تعلیم پیش کی جائے کہ خدا کسی اپنے پریمی اور بھگت کو ہمیشہ کے لئے ملکتی یعنی نجات نہیں دے سکتا بلکہ مہا پر لے کے وقت اُس کو ضروری ہوتا ہے کہ مکتی یافتہ انسانوں کو پھر اسی تناسخ کے چکر میں ڈالے یا مثلاً خدا کی نسبت یہ کہنا کہ وہ کسی کو اپنے فضل وکرم سے کچھ بھی عطا نہیں کرسکتا بلکہ ہر ایک شخص کو وہی ملتا ہے جو اُس کے اعمال کے نتائج ہیں پھر ایسے خدا کی کیا ضرورت باقی رہتی ہے غرض ایسا خدا ماننے والے کو سخت شرمندہ ہونا پڑے گا۔ایسا ہی عیسائی بھی جب یہ پیش کریں گے کہ ہمارا خدا یسوع ہے اور پھر اُس کی نسبت وہ یہ بیان کریں گے کہ یہودیوں کے ہاتھوں سے اُس نے ماریں کھا ئیں شیطان اُسے آزما تا رہا۔بھوک اور پیاس کا اثر اُس پر ہوتا رہا۔آخر نا کامی کی حالت میں پھانسی پر چڑھایا گیا تو کون دانشمند ہو گا جو ایسے خدا کے ماننے کے لئے تیار ہوگا۔غرض اسی طرح پر تمام قومیں اپنے مانے ہوئے خدا کا ذکر کرتی ہوئی شرمندہ ہوتی ہیں مگر مسلمان کبھی اپنے خدا کا ذکر کرتے ہوئے کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہوتا کیونکہ جو خوبی اور عمدہ صفت ہے وہ اُن کے مانے