تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 129
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۹ سورة الفاتحة نِكَاتِ هَذِهِ الْآيَةِ وَلَطَائِفِهَا الْأَدَبِيَّةِ الَّتِي | آیت کے بعض نکات اور ادبی لطائف کو جو دیکھنے والوں هي لِلنَّاظِرِينَ كالآيَاتِ وَبَلاغها کے لئے روشن نشانوں کی طرح ہیں۔اور اس کی حیران کن الرَّائِعَةِ الْمُبْتَكِرَةِ الْمُحْتَرَةِ الْمُحْتَوِيَةِ اچھوتی اور خوب آراستہ بلاغت کو جو کنایات کی خوبیوں ، على محاسنِ الكِتايَاتِ مَعَ دُرَرٍ حِكَمِيَّةٍ حکمت کے موتیوں اور دقائق الہیہ کے نادر معارف پر وَمَعَارِفَ نَادِرَةٍ مِّنْ دَقَائِقِ الْإِلَهِيَّاتِ حاوی ہے۔تم اس بیان کی نظیر نہ تو پہلے لوگوں میں اور نہ فَلا تَجِدُ نَظِيرَهَا فِي الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ بعد میں آنے والے لوگوں میں دیکھو گے۔بلاشبہ اس کی فَلَا شَكَ أَنَّ مُلَحَ أَدَبِهَا بَارِعَةٌ وَقَدَمَهَا عمده ادبی باتیں بے نظیر فضیلت کی حامل ہیں۔اس کا قدم عَلى أَعْلَامِ الْعُلُومِ فَارِعَةٌ وَ هِيَ يُصْبِى علوم کے پہاڑوں سے بھی اونچا ہے اور وہ عارفوں کے دلوں قُلُوبَ الْعَارِفِينَ وَ قَدْ عَلِمْتَ ترتیب کو موہ لیتی ہے۔اب تو نے ان پانچ سمندروں کی ترتیب کو خَمْسَةِ أَبْحُرِ الَّتِي تَجْرِى بَعْضُهَا تِلْوَ بَعْضٍ معلوم کر لیا ہے۔جو ایک دوسرے کے پیچھے جاری ہیں۔فَتَسَلَّمْهُ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ وَ أَمَّا پس تو انہیں قبول کر اور شکر گزاروں میں سے ہو جا اور اگر تو تَرْتِيبُ الْمُغْتَرِفَاتِ فَتَعْرِفُهُ بِتَرْتِيبِ فیض اُٹھانے والوں سے بنا چاہے تو فیض اٹھانے والے أَحُرِهَا إِن كُنتَ مِنَ الْمُغْتَرِ فِيْنَ۔جملوں کی ترتیب کو تو ان کے سمندروں کی ترتیب سے کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۱۱۶ تا ۱۱۹) پہچان لے گا۔( ترجمہ از مرتب ) اس جگہ لف و نشر مرتب ہے۔اوّل الحَمدُ للهِ الله مجمع جميع صفات کاملہ ہر ایک خوبی کو اپنے اندر رکھنے والا اور ہر ایک عیب اور نقص سے منزہ دوم ربّ العالمین ، سوم الرحمن، چهارم الرحيم ، پنجم ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ اب اس کے بعد جو درخواستیں ہیں وہ ان پانچوں کے ماتحت ہیں اب سلسلہ یوں شروع ہوتا ہے۔اياك اِيَّاكَ نَعْبُدُ یہ فقرہ الْحَمْدُ لِله کے مقابل ہے یعنی اے اللہ تو جو ساری صفات حمیدہ کا جامع ہے اور تمام بدیوں سے منزہ ہے تیری ہی عبادت کرتے ہیں مسلمان اس خدا کو جانتا ہے جس میں تمام خوبیاں جو انسانی ذہن میں آسکتی ہیں موجود ہیں اور اس سے بالا تر اور بالا تر ہے کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسانی عقل اور فکر اور ذہن خدا تعالیٰ کی صفات کا احاطہ ہرگز ہرگز نہیں کر سکتے۔ہاں تو مسلمان ایسے کامل الصفات خدا کو مانتا ہے تمام قو میں مجلسوں میں اپنے خدا کا ذکر کرتے ہوئے شرمندہ ہو جاتی ہیں اور انہیں شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔مثلاً ہندوؤں کا خدا جو انہوں 6