تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 131
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة ہوئے خدا میں موجود اور جو نقص اور بدی ہے اُس سے وہ منزہ ہے جیسا کہ سورۃ الفاتحہ میں اللہ کو تمام صفات حمیدہ کا موصوف قرار دیا ہے تو اَلْحَمدُ لِله کے مقابل میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہے۔اس کے بعد ہے رَبُّ الْعَلَمِينَ ربوبیت کا کام ہے تربیت اور تحمیل جیسے ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے اُس کو صاف کرتی ہے ہر قسم کے گند اور آلائش سے دور رکھتی ہے اور دودھ پلاتی ہے۔دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ وہ اُس کی مدد کرتی ہے اب اس کے مقابل میں یہاں اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (ہے) پھر الرَّحْمنُ ہے جو بغیر خواہش بدوں درخواست اور بغیر اعمال کے اپنے فضل سے دیتا ہے اگر ہمارے وجود کی ساخت ایسی نہ ہوتی تو ہم سجدہ نہ کر سکتے اور رکوع نہ کر سکتے اس لئے ربوبیت کے مقابلہ میں اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ فرمایا جیسے باغ کا نشو نما پانی کے بغیر نہیں ہوتا اسی طرح پر اگر خدا کے فیض کا پانی نہ پہنچے تو ہم نشو ونما نہیں پاسکتے درخت پانی کو چوستا ہے اس کی جڑوں میں دہانے اور سوراخ ہوتے ہیں۔طبعی میں یہ مسئلہ ہے کہ درخت کی شاخیں پانی کو جذب کرتی ہیں اُن میں قوت جاذبہ ہے اسی طرح پر عبودیت میں ایک قوتِ جاذبہ ہوتی ہے جو خدا کے فیضان کو جذب کرتی ہے اور چوستی ہے پس الرحمن کے بالمقابل اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے یعنی اگر اس کی رحمانیت ہمارے شامل حال نہ ہوتی اگر یہ قومی اور طاقتیں تو نے عطا نہ کی ہوتیں تو ہم اس فیض سے کیونکر بہرہ ور ہو سکتے۔دو (الحکم نمبر ۳۳ جلد ۵ مؤرخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۱ ء صفحه ۲) پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - الرَّحْمٰنُ کے بالمقابل ہے کیونکہ ہدایت پانا کسی کا حق تو نہیں ہے بلکہ محض رحمانیت الہی سے یہ فیض حاصل ہو سکتا ہے اور صِرَاطَ الَّذِینَ اَنْعَمتَ عَلَيْهِمُ الرَّحِيمُ کے بالمقابل ہے کیونکہ اس کا ورد کرنے والا رحیمیت کے چشمہ سے فیض حاصل کرتا ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ اے رحم خاص سے دُعاؤں کے قبول کرنے والے! ان رسولوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحوں کی راہ ہم کو دکھا جنہوں نے دُعا اور مجاہدات میں مصروف ہو کر تجھ سے انواع و اقسام کے معارف اور حقائق اور کشوف اور الہامات کا انعام پایا اور دائمی دُعا اور تضرع اور اعمال صالحہ سے معرفت تامہ کو پہنچے۔رحیمیت کے مفہوم میں نقصان کا تدارک کرنا لگا ہوا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ اگر فضل نہ ہوتا تو نجات نہ ہوتی۔ایسا ہی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ سے سوال کیا کہ یا حضرت! کیا آپ کا بھی یہی حال ہے آپ نے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ہاں۔نادان اور احمق عیسائیوں نے اپنی نام نہیں اور نا واقعی کی وجہ سے اعتراض کئے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ یہ آپ کی کمال عبودیت کا اظہار تھا۔